تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 371 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 371

احمدیت قبول کر لی۔وعیدی پیشگوئی کا اصل غرض چونکہ توبہ اور استغفار کی طرف رجوع دلانا اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا سکہ دلوں پر بٹھانا ہوتی ہے اس لئے جب یہ شرط پوری ہو جائے تو پھر سنت اللہ کے مطابق عذاب بالکل مل جایا کرتا ہے بشر طیکہ متعلقین پیشگوئی اپنی توبہ پر قائم رہیں اور اگر انہوں نے تو بہ پر قائم نہ رہنا ہو تو پھر سنت اللہ یوں ہے کہ عذاب میں اس وقت تک تاخیر ہو جاتی ہے کہ وعیدی پیشگوئی کے متعلقین پھر بے باکی دکھائیں اور اپنی تو بہ توڑ دیں۔یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کا ملنا تھی کہ :- تفاسیر میں قوم یونس کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت یونس نے یہ پیشگوئی کی إِنَّ أَجَلَكُمْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً - لیکن قوم نے توبہ کرلی اور عذاب مل گیا۔چنانچہ لکھا ہے :- فَتَضرعوا الى اللهِ وَرَحمَهُمُ و كَشَفَ عَنْهُمُ ( تفسیر کبیر از امام رازی جلد ۵ صفحه ۴۲ و تفسیر فتح البیان جلد ۸ صفحه ۸۹) یعنی وہ لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے تو اُس نے ان پر رحم کیا اور اُن سے عذاب دُور کر دیا۔چونکہ یہ لوگ تو بہ پر قائم رہے اس لئے عذاب بھی ان سے ٹلا رہا اور خدا تعالیٰ نے اس قوم سے اپنی پہلی سنت کے مطابق معاملہ کیا۔لیکن آل فرعون جب عذاب آنے پر حضرت موسیٰ سے دُعا کی دو خواست کرتی تھی اور ایمان لانے کا وعدہ کرتی تھی تو خدا تعالیٰ ان سے عذاب ٹال دیتا تھا۔مگر چونکہ وہ اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتی تھی اس لئے پھر عذاب میں پکڑی جاتی تھی۔بالآخر آل فرعون مع فرعون تو بہ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے پر سمندر میں