تحقیقِ عارفانہ — Page 353
۳۵۳ کی طرف سے تھیں۔۱۷ نواب محمد علی خان آف مالیر کوٹلہ کی بیوی ابھی تندرست تھیں۔کہ مرزا صاحب کو ان کی وفات کی اطلاع ملی اور اس کے ساتھ ہی دکھلایا گیا کہ۔” درد ناک دکھ اور درد ناک واقعہ“ اس کی اطلاع نواب صاحب کو دی گئی خدا کی قدرت کوئی چھ ماہ بعد بیگم صاحبہ کو سل کا عارضہ لاحق ہو گیا۔اور آپ کچھ عرصہ بعد وفات پاگئیں۔ظاہر ہے کہ سل کا مرض نهایت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس مرض کا مریض درد ناک دکھ میں مبتلا ہو کر ا راہی عدم ہوتا ہے۔گم صاحبہ کی صحت کی حالت میں اس قسم کی اطلاع کی اشاعت یقین کامل کے بغیر نا ممکن ہے۔اور یقین کامل خدا پر مضبوط ایمان اور اس کی جانب سے حتمی اطلاع کے بغیر محال ہے۔ان تمام واقعات سے یہ امر سورج کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔کہ مرزا صاحب کو شرح صدر حاصل تھا اور آپ کو مکالمہ و مکاشفہ کا شرف حاصل تھا۔کون بد سخت کہہ سکتا ہے کہ خدا پر جھوٹ باندھنے والا بھی دنیا میں کامیاب وہا مراد ہو سکتا ہے اور اس کا سلسلہ روز افزوں ترقی کر سکتا ہے۔سلسلہ احمدیہ کی مسلسل ترقیاں اور اس جماعت کی پیم کامیابی اس امر کی روشن دلیل ہیں کہ نصرت الہی ان کے ساتھ ہے۔خود مرزا صاحب نے فرمایا کہ " کبھی نصرت نہیں ملتی در مولی سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتاوہ اپنے نیک بندوں کو محولہ بالا شعر ہی بتلاتا ہے کہ مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ پر کامل تو کل اور پورا