تحقیقِ عارفانہ — Page 346
نہیں ہوئی۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے۔اور مرزا صاحب کی جانب سے انہیں خلیفہ مقرر کرانے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہیں کی گئی تھی بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔چنانچہ اس وقت اکثریت نے حکیم نورالدین صاحب کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔جس پر مخالفوں نے محولہ پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا۔لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانہ میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے۔خود مرزا صاحب کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔خلیفہ نورالدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں میرزائیت قریب دنیا کے ہر خطہ تک پہنچ گئی ہے۔اور حالات یہ بتاتے ہیں کہ آئنده مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد ۱۹۳۱ء کی نسبت دگنی سے بھی زیادہ ہو گی۔حالیہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظم کوششیں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں۔الغرض آپ کی ذریت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے انتظام کے لئے قائم کیا گیا اور اس کے ذریعہ سے جماعت کو حیرت انگیز ترقی ہوئی جس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی بھی من و عن پوری ہوئی۔اپریل ۱۹۰۶ء میں آپ کو اطلاع ملی کہ " تزلزل در ایوان کسری افتاد اس پیشگوئی کی اشاعت سے تھوڑا ہی عرصہ بعد شاہ ایران تخت سے معزول کئے گئے اور یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔-٨-١٩٠٥ ء میں لارڈ کرزن واکسرئے ہند نے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کے وائسرائے بہادر کے اس اقدام سے بنگالی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ