تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 334 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 334

میں خطا واقع ہونے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔حدیث نبوی میں ہے :- مَا حَدَّ تُتْكُمْ مَنِ اللهِ سُبْحَانَهُ فَهُوَ حَقٌّ وَمَا قُلْتُ فِيْهِ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرُ أَخُطى وَ أَصِيبُ ) نبراس شرح الشرح عقائد نسفی صفحه ۳۹۲) ترجمہ : جو بات میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتاؤں وہ سچ ہے۔اور جو کچھ اس کلام کے بارہ میں اپنی طرف سے کہوں تو میں ایک اثر ہوں غلطی بھی کرتا ہوں اور درست بھی کہتا ہوں۔حضرت نوح نے خدا تعالیٰ کی وحی صحیح طور پر نہ سمجھی۔چنانچہ جب ان کا بیٹا ڈوبنے لگا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کو ان الفاظ میں اس کا وعدہ یاد دلایا کہ :- إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ کہ بے شک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور بے شک تیر اوعدہ سچا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : - إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ : إِنَّهُ عَمَلُ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْتَلْنِ مَالَيسَ لَكَ بِهِ (سورہ ھود : ۴۷) عِلْمٌ إِنِّى أَعِظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ کہ بے شک وہ تیرے اہل میں سے نہیں بے شک اس کے اعمال صالح نہیں پس مجھ سے ایسی بات کے متعلق مطالبہ نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں۔میں تجھے نصیحت کرتا ہوں تا تو نا واقفوں میں سے نہ ہو جائے۔حضرت اقدس نے الہام یا احمد اسکن انت وزوجك الجنة سے جو تیسری زوجہ کے متعلق اجتہاد کیا تھا۔اس میں جو خطاء تھی اس کا اللہ تعالی نے ایک دوسرے الہام سے خود ازالہ فرما دیا تھا۔چنانچہ وہ الہام آپ کو 1901ء میں ہوا۔اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔