تحقیقِ عارفانہ — Page 329
۳۲۹ لئے یہ لفظ استعمال ہو تو بطور دشنام ہو گا یا مجازا استعمال ہو گا۔اعتراض پنجم آيت كنتم خير أمة أخرجت للناس کی تفسیر میں حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ نے یہ لکھا ہے :- کہ الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔“ (ازالہ اوہام جلد اول صفحه ۳۴) جناب برق صاحب کو اس تفسیر پر یہ اعتراض ہے کہ آخر للناس کا لام برائے انتفاع ہے پھر الناس جمع اور دجال مفرد جمع سے مفرد کیسے مراد ہوا ؟ الجواب (حرف مجرمانه صفحه ۲۴۴) للناس کا لام بے شک انتفاع کے لئے ہے اور الناس جمع ہے۔مگر دجال بھی اسم جمع (Collective Noun) ہے یعنی یہ لفظ ایک فرد کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ ایک گروہ کو ظاہر کرتا ہے۔اس لئے دجال کے گروہ کیلئے الناس کا اطلاق جائز ہے۔یہ معنی اختیار کرنے میں کوئی ادبی سقم نہیں۔لغت عربی میں دجال کے معنی لکھے ہیں۔"الرفقه العظيمة تُغَطِئُ الأَرْضِ بِكَثْرَةِ أَهْلِهَا۔بڑے گروہ کو کہتے ہیں جو اپنی کثرت سے زمین ڈھانپ دے۔اعتراض ششم (المنجد) خطبہ الہامیہ میں اپنے زمانہ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت صراط الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيْهِمْ سے ایک یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے