تحقیقِ عارفانہ — Page 330
۳۳۰ مراد وہ اولی او ابدال میں جو مسیح موعود پر ایمان لائے اور مغضوب وضالین سے مراد آپ کے منکرین ہیں۔اس تفسیر کے متعلق جناب برق صاحب صرف اتنا لکھتے ہیں :- یہ تفسیر محتاج تبصرہ نہیں۔" (حرف محرمانه صفحه ۲۴۵) واضح ہو حضرت مرزا صاحب نے اس آیت کی تفسیر کا انہی معنوں پر حصر نہیں کیا۔بلکہ کئی مقامات پر آپ نے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے مراد گذشته انعام یافتہ نبی، صدیق، شہید ، اور صالح بھی لئے ہیں۔اور مغضوب علیھم سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصار کی لئے ہیں۔چونکہ آیت قرآنیہ میں جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ان میں بعض نیکیوں کو اختیار کرنے اور بعض بدیوں سے چنے کی دعائیں سکھائی گئیں۔یہ اپنے اندر ایک پیشگوئی کا رنگ بھی رکھتی ہیں۔اس لئے اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین کی دعا میں بھی ایک پیشگوئی کا رنگ بھی پایا جاتا ہے۔یہ دعا اسی لئے سکھائی گئی کہ آئیندہ انعام یافتہ لوگ بھی پیدا ہونے والے تھے اور قوم میں تفریط و افراط کی راہ اختیار کر کے کچھ لوگ یہود کی طرح مغضوب عليهم اور عیسائیوں کی طرح ضالین بلنے والے بھی تھے۔اس لئے آئندہ پیدا ہونے والے منعم علیھم کے لحاظ سے اس دعا میں بطور پیشگوئی مسیح موعود پر ایمان لانے والے اولیاء وابدال بھی مراد ہیں۔اور مغضوب علیہم اور ضالین سے آپ کے منکرین بھی مراد ہے۔