تحقیقِ عارفانہ — Page 323
۳۲۳ برق صاحب کا اعتراض ان آخری الفاظ سے واضح ہے کہ آپ کو صرف لفظ صعق کے معنوں پر اعتراض ہے۔برقی صاحب کے نزدیک اس کے معنی ہیں ان کی چیخیں نکل جائیں گی۔یا فریاد میں نکل جائیں گی۔اور حضرت مسیح موعود نے اس کے معنی کئے ہیں کہ ان پر غفلت طاری ہو جائے گی اس میں شک نہیں کہ صعق کے معنی اشتدَّ صُوتُه بھی ہیں جیسے صَعِقَ الرعد یعنی بجلی کڑکی مگر اس کے معنی غشی کے بھی ہیں چنانچہ صعق کے معنی المغشى علیه لغت میں کئے گئے ہیں۔اور قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر حَرَّ مُوسى صَعِقاً (اعراف : ۱۴۴) میں پیہوشی کے معنوں میں ہی یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ موسی بے ہوش ہو کر گر گئے۔اور غفلت بے ہوشی کو لازم ہے۔پس صعق کا لفظ اس آیت میں غفلت کے معنوں میں لینا جائز ہوا۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو برق صاحب کے یہ معنی کہ زمین و آسمان کی فریاد میں نکل جائیں گی منافی غفلت نہیں بلکہ بد حواسی پر دال ہیں۔جو غفلت کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔پس معنوں میں ایک چھوٹے سے اختلاف پر غور کئے بغیر برق صاحب کا معترض ہو جانا ان کے عدم تفکر اور جلد بازی کی دلیل ہے۔دراصل تو ان کو اس آیت کی اس تفسیر پر اعتراض کرنے کا کوئی حق ہی نہ تھا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اس جگہ صاف لکھا ہے :- وو یہ آئیں زوالوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی جیسا کہ آیت اِعْلَمُوا ان اللهَ يُحَى الأَرضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید : ۱۸) اور جیسا کہ آیت فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرهَا۔“ (الرعد : ١٨) (شهادة القرآن صفحه ۲۵) بات دراصل یہ ہے کہ وہ آیات جو قیامت کبری سے تعلق رکھتی ہیں ان میں سے کئی آیات ذوالوجوہ ہیں۔اور ان کا تعلق قیامت صغریٰ سے بھی ہے ایک مامور من