تحقیقِ عارفانہ — Page 318
۳۱۸ کا ذکر بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ احادیث کچھ کم اہمیت رکھنے والی بشی نہیں کیونکہ احادیث کا انکار کرنے سے اسلام کی بہت سی عظیم الشان تاریخ بہا تجھ سے جاتی رہے گی۔چونکہ برق صاحب دراصل منکر حدیث ہیں اس لئے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو جنگیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہو ئیں۔ان سب کی تفصیل قرآن کریم میں درج ہے۔یعنی اتنی ہی جنگیں ہوئی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہوا۔گویا ان کے نزد یک آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں صرف وہی تین چار جنگیں ہوئیں ہیں جن کا ذکریا ان کی کچھ تفصیل قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے۔اب ہر اہل علم اس سے برقی صاحب کے اعتراض کی رکاکت آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ہمیں ان کے جواب کے لئے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اب جناب برق صاحب فرمائیں کہ انہوں نے جو یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ منشائے محکم کو نظر انداز کر کے کوئی عبارت پیش نہیں کر رہے وہ خود ہی اس موقعہ پر دیکھ لیں کہ وہ اپنے اس دعوئی میں کہاں تک بچے ہیں۔ہم خودان سے ہی داد خواہ ہیں۔ایک اور اعتراض ایک اور اعتراض بلا نمبر کیا گیا ہے برق صاحب آیت قرآنیہ "إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِع - فَإِذَا النُّحُومُ طَمِسَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ فُرحَتْ وَإِذَا الجِبَالُ نُسِقَت وَإِذَا الرُّسُلُ أَقْنَتَ لِأَي يَوْمٍ أُجَلَت لِيَوم الفصل - (المرسلت: ۸ تا ۱۳) پیش کر کے لکھتے ہیں یہ آیات قیامت کے ذکر سے شروع ہو کر قیامت پر ہی ختم ہوتی ہیں۔درمیان میں علامات قیامت کا ذکر ہے جن میں ایک یہ ہے کہ اس روز انبیاء ایک خاص وقت پہ میدان محشر میں حاضر ہوں گے اور ان کے مقدمات پر غور ہو گا۔لیکن جناب مرزا صاحب وَ إِذَا الرمل أقنت کا ترجمہ یہ فرماتے ہیں اور جب رسول وقت