تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 317 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 317

۳۱۷ عبارت مع محولہ عبارت اس جگہ درج کر دیتا ہوں تا کہ ناظرین کرام برق صاحب کی دیانت کا اندازہ لگا سکیں۔حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مید او اور منبع یہی احادیث ہی ہیں اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں مانا چاہیئے کہ در حقیقت حضرت ابو بکر ، اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان اور حضرت علیؓ آنحضرت صلى الله کے صحابہ تھے جن کو بعد وفات آنحضرت علیہ اسی ترتیب سے خلافت ملی۔اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیا جاوے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہہ سکیں اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہوں۔اور دراصل نہ کوئی ابو بحر گذرا ہو نہ عمر نہ عثمان نہ علی کیونکہ بقول میاں عطا محمد معترض یہ سب احادیث احاد ہیں اور قرآن میں ان ناموں کا کہیں ذکر نہیں پھر ہمو جب اس اصول کے کیونکر تسلیم کی جائیں۔ایسا ہی آنحضرت ﷺ کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبد المطلب ہونا اور پھر آنحضرت ﷺ کی بیویوں میں سے ایک کا نام خدیجہ ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حصہ ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا اور غار حراء میں جاکر آنحضرت ﷺ کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت مے کا بعد بعثت دس سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں اور صرف حدیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں تو کیا ان تمام واقعات سے اس بناء پر انکار کر دیا جائے کہ احادیث کچھ چیز نہیں۔الخ (شهادة القرآن صفحه ۴،۳) اس سیاق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ صرف ان لڑائیوں اور واقعات کا ذکر ہے جن کی تفصیل قرآن مجید میں موجود نہیں اور ان کی تفصیل کا علم بلکہ ان کے ناموں رض