تحقیقِ عارفانہ — Page 313
٣١٣ ترجمہ و تفسیر پر اعتراضات کے جوابات اول : برق صاحب لکھتے ہیں کہ قرآن میں بار بار ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کسی ایک جہت میں مقید نہیں بلکہ أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَقَمْ وَجْهُ اللهِ۔(البقرہ : ۱۱۶) ( تم جدہر بھی منہ پھیر و گے اللہ کو سامنے پاؤ گے)۔لیکن جناب مرزا صاحب اسی آیت کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں۔" جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ ہے۔" ( تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۴۹) برق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ اس ترجمہ سے خدا تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے کہ تو جدھر منہ پھیرے خدا بھی ادھر منہ پھیر لیتا ہے۔اور دوسرا اعتراض الجواب تو لواجمع کا صیغہ ہے اور مرزا صاحب اسے واحد بنا کر معنی کرتے ہیں۔(حرف محرمانه صفحه ۲۳۷) بے شک " أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَتَم وَجهُ اللهِ" قرآن شریف کی ایک آیت ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی جہت میں مقید نہیں۔مگر اس سے بڑھ کر بھی کئی اور امور اس وحی الہی سے مستنبط ہوتے ہیں۔اگر اس آیت کا یہ لفظی ترجمہ کیا جائے کہ تم لوگ ( مومنین) جدھر منہ پھیرو پس اسی طرف اللہ کا منہ ہے۔تو برق صاحب کو اس لفظی ترجمہ پر کوئی اعتراض کا حق نہیں ہو سکتا۔برق صاحب کے ترجمہ میں اللہ کو سامنے پاؤ گے “ کے الفاظ میں فَثَمَّ وَجُهُ اللهِ کی صرف ایک تفسیر بیان ہوئی ہے۔مگر یہ ترجمہ نہیں ہے لفظی ترجمہ ملاحظہ ہو آئینما۔جدھر - تولوا۔تم منہ پھیرو ف۔پی۔ہم اسی جگہ یا اسی طرف۔وجہ۔چہرہ یامنہ اللہ اللہ تعالی۔پس لفظی ترجمہ یہ ہوا کہ تم مومنین جدھر منہ پھیرو گے اسی طرف خدا کا