تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 20 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 20

۲۰ قرآن مجید میں کوئی جدید صداقت موجود نہیں بلکہ صرف پہلی صداقتیں ہی دہرادی گئی ہیں۔قرآن مجید اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔اس نے آیت ما ننسخ من آید الخ میں بتا دیا ہے کہ سابق شریعتوں کے احکام کو اس میں منسوخ کر کے ان سے بہتر احکام بھی دیئے گئے ہیں۔اور بعض بدی صداقتوں کو جو فراموش ہو چکی تھیں دہرا بھی دیا گیا ہے۔پھر قرآن شریف زبان عربی میں نازل ہونے کی وجہ سے بھی ایک الگ شریعت کا حکم رکھتا ہے۔جسے قبول کئے بغیر اب کوئی شخص کسی دوسری شریعت پر عمل کر کے فلاح نہیں پا سکتا۔بلکہ اس کے لئے قرآن مجید پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔دوسری آیت جو برقی صاحب نے پیش کی ہے وہ مَا يُقَالُ لَكَ إِلا مَا قَدْ قِيلَ للرسل من قبلك ہے ( حم السجدہ : (۴۴) اس کا ترجمہ برقی صاحب نے یہ کیا ہے " ہم تمہیں وہی پیغام دے رہے ہیں جو تم سے پہلے تمام انبیاء کو دیا گیا“۔حالانکہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ " تیرے لئے وہی کچھ کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا۔“ تجھ پر اسی قسم کے اعتراضات کئے جاتے ہیں جس قسم کے اعتراضات تجھ سے پہلے نبیوں پر ہوئے۔چنانچہ سیاق کلام کا فقرہ اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُو ابا لِذِكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ ( حم السجدہ : ۴۲) ہمارے معنوں کا ہی موید ہے۔افسوس ہے کہ اس سیاق کو ترک کر کے جناب برق صاحب نے اس آیت کا مفہوم ہی بالکل بدل دیا ہے جو تحریف معنوی کی بد ترین مثال ہے۔پس اس آیت کا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ شریعت محمدیہ پہلی شریعتوں سے الگ کوئی جدید شریعت نہیں ہے۔تیری آیت شَرَعَ لِكُمُ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً و الَّذِي أَوْحَيْنَا إليكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى (الشوری : ۱۴) پیش کی گئی ہے۔اور اس کا ترجمہ ”حرف محرمانہ “ کے صفحہ ۱۹ پر یہ کیا گیا ہے۔”اے محمد ہم تمہیں وہی دین اور وہی شریعت دے رہے ہیں جو نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسی کو دی گئی۔“ اس ترجمہ