تحقیقِ عارفانہ — Page 19
۱۹ عیسی کو دی گئی۔“ برق صاحب کے نظریہ کا ابطال (حرف محرمانه صفحه ۱۹،۱۸) جناب برق صاحب کا یہ نظریہ کہ کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں کیا تھا۔سراسر باطل ہے کیونکہ تمام امت محمد یہ بلا استثنا قرآن شریف کو شریعت جدیدہ تسلیم کرتی چلی آئی ہے۔پس برق صاحب کا یہ نظریہ اجماع امت کے خلاف ہونے کی وجہ سے بھی مردود ہے اور چونکہ یہ خود قرآن مجید کے بیان کردہ نظریہ کے بھی خلاف ہے " اس لئے بھی مردود ہے۔دیکھئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔66 مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ أَو نُنَسِهَا نَأْتِ بِخَيْرِ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ، (البقرہ : ۱۰۷) یعنی ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا اُسے (لوگوں کے ذہنوں سے) فراموش کر دیتے ہیں تو ہم منسوخ شدہ آیت سے) بہتر آیت لاتے ہیں۔یا فراموش کردہ آیت کے ) مثل آیت لاتے ہیں۔یہ آیت قرآن مجید کے ذریعہ پہلی شریعتوں کے بعض احکام کا منسوخ قرار دینا بھی بیان کرتی ہے اور بعض ابدی صداقتوں کا ہر انا بیان کرتی ہے۔اس آیت کی روشنی میں جناب برق صاحب کا یہ نظریہ کہ کوئی نبی نئی شریعت لے کر نہیں آیا تھا۔ایک منٹ کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔اور قرآن شریف کو ہمیں ضرور ایک جدید شریعت ماننا پڑتا ہے۔کیونکہ موسوی شریعت میں بعض چیزمیں حرام تھیں جو قرآن مجید میں حلال قرار دی گئی ہیں۔جیسے مال غنیمت اور سو ختنی قربانی و غیرہ۔برق صاحب کی پیش کردہ آیات کا حل پہلی آیت إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولی کی یہ تفسیر ہر گز درست نہیں کہ