تحقیقِ عارفانہ — Page 295
۲۹۵ مولوی ثناء اللہ صاحب کے اس چیلنج کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود کے حکم سے بدر کے ایڈیٹر صاحب نے اخبار بدر ۴، اپریل میں ” مولوی ثناء اللہ کا چیلنج منظور کر لیا گیا“ کے عنوان کے ماتحت لکھا۔”میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے وہ بے شک قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص اپنے دعوئی میں جھوتا ہے اور بے شک یہ کہیں اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنت اللہ علی الکاذبین اور اس کے علاوہ ان کو اختیار ہے کہ اپنے جھوٹے ہونے کی صورت میں ہلاکت وغیرہ کے لئے جو عذاب اپنے لئے چاہیں مانگیں۔اگر آپ اس بات پر راضی ہیں کہ بالمقابل کھڑے ہو کر زبانی مباہلہ ہو تو پھر آپ قادیان آسکتے ہیں۔اور اپنے ساتھ دس تک آدمی لا سکتے ہیں۔اور ہم آپ کا زاد راہ آپ کے یہاں آنے اور مباہلہ کرنے کے بعد پچاس روپیہ تک دے سکتے ہیں۔لیکن یہ امر ہر حالت میں ضروری ہوگا۔کہ مباہلہ کرنے سے پہلے فریقین میں شرائط تحریر ہو جائیں گے۔اور الفاظ مباہلہ تحریر ہو کر اس تحریر پر فریقین اور اس کے ساتھ گواہوں کے دستخط ہو جائیں گے۔" (بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء ) اس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے ۱۲ ،۱۹، اپریل ۱۹۰۷ء کے پرچہ میں جو اکٹھا ۱۲ اپریل ۱۹۰۷ء کو شائع ہوا لکھا :- ” میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں کہ فریقین مقابلہ پر قسمیں کھائیں۔میں نے حلف اٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا۔قسم اور ہے اور مباہلہ اور ہے۔،، مولوی شاء اللہ صاحب کے اس چیلنج سے ظاہر ہے کہ اس میں دو دفعہ انہوں