تحقیقِ عارفانہ — Page 290
۲۹۰ موعود کی صد ہا دعاؤں میں سے جو صفائی سے قبول ہو کر نشان نہیں صرف دو دعاؤں کا ذکر کرتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ کے بغلی عنوان کے تحت لکھتے ہیں :- " جناب مرزا صاحب نے بھارات قسم قرآن و قبولیت دعا کے سلسلہ میں علماء کو چیلنج دیا تھا کہ وہ آئیں اور مقابلہ کریں۔اس چیلنج کو وہ بار بار دہراتے رہے یہاں تک ١٩٠٢ء میں مولوی ثناء اللہ مقابلہ کے لئے اتر گیا۔اس کی تفصیل خود جناب مرزا صاحب سے سنئے :۔“ میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ درخواست کرتا ہے کہ میں ( ثناء اللہ) اس طور کے فیصلہ کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین (یعنی میں اور وہ) یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مر جائے۔۔۔پس ہمیں کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں کیونکہ ان کا یہی چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کی رو سے واقعہ نہ ہو۔بلکہ بعض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا کسی اور ہماری ہے۔تا ایسی کارروائی حکام کے لئے تشویش کا موجب نہ ٹھرے اور ہم یہ بھی دعا کرتے رہیں گے کہ ایسی موتوں سے فریقین محفوظ رہیں صرف وہ موت کا ذب کو آئے جو بیماری کی موت ہوتی ہے۔“ (اعجاز احمدی صفحه ۱۵، ۱۴) برق صاحب آگے لکھتے ہیں :- نیز شرط عائد کر دی کہ چیلنج ایک پوسٹر کی صورت میں ہونا چاہئے۔جس کے نیچے پچاس آدمیوں کے دستخط ہوں۔آیا ایسا کوئی پوسٹر مولوی شیاء اللہ صاحب کی طرف سے شائع ہوا تھا یا نہیں۔ہمیں کوئی علم نہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ جناب مرزا صاحب نے مولوی صاحب کے اس ارادے کو ہی کافی سمجھا اور فرمایا مجھے کچھ ضرورت