تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 283 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 283

۲۸۳ الجواب واضح ہو کہ جہاد بالسیف اس لڑائی کا نام ہوتا ہے جو نہ ہی مدافعت کے لئے اس وقت لڑی جائے جب کہ کوئی قوم مذہب کے بارہ میں جبر کر رہی ہو۔ترکوں کی لڑائی یا ترکوں سے لڑائی اسلامی جہاد ہر گز نہیں تھا۔بلکہ یہ ایک ملکی لڑائی تھی اور اعلان جنگ کرنے میں لڑکی نے ابتداء کی تھی۔اسلامی جہاد اس وقت فرض ہوتا ہے جب کفار کی طرف سے مذہب کے بارے میں جبر سے کام لیا جائے۔اور مسلمانوں پر حملے میں ان کی طرف سے ابتداء ہو۔پس اس لڑائی کو اسلامی جہاد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔جس سے خدا ناراض ہوتا۔پھر احمدی تو غیر احمدی مسلمانوں کے مقابلہ میں فوج میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھے۔بلکہ ہندوستان کے ہزار ہا مسلمانوں نے لڑکی کے خلاف اس لڑائی میں حصہ لیا تھا۔اور عراق کو فتح کرنے میں اتحادیوں کی مدد کی تھی۔اسی طرح سارے عرب اس موقعہ پر اتحادیوں کی پشت پناہ تھے۔اس لئے اگر کچھ احمدی بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے۔تو انہوں نے کیا جرم کیا۔جب کہ لاکھوں مسلمان اور خصوصاً عرب اس وقت اتحادیوں کے حامی تھے۔کیا یہ عرب بھی انگریز کی خوشنودی کے لئے جنگ میں شامل ہو گئے تھے۔نہیں اور ہر گز نہیں۔بلکہ لڑکی کے جرمن کے ساتھ مل جانے کے بعد اعلان جنگ کے غلط رویہ نے انہیں اتحادیوں کی حمایت کے لئے مجبور کیا۔کیونکہ اس زمانہ میں ٹرکی کا جرمنی کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا۔اور جرمنی حکومت تمام دنیا میں اپنا اثر اور نفوذ پیدا کرنا چاہتی تھی۔مبلغ روس کے رویة پر اعتراض جناب برق صاحب نے لکھا ہے :- " جب خلیفہ اسح نے مولوی محمد امین کو روس میں مبلغ بنا کر بھیجا تو وہ وہاں