تحقیقِ عارفانہ — Page 282
۲۸۲ ساتھ شامل ہو کر عربوں کو ناراض کر لیا تھا۔اور عرب اتحادیوں سے مل گئے تھے جس کی وجہ سے عراق اور شام ترکوں کے تسلط سے آزاد ہو گئے تھے۔اور عربوں کو امید تھی کہ ان کی متحدہ حکومت قائم کر دی جائے گی۔اس لئے سب عرب خوشیاں منار ہے تھے۔اگر اس موقعہ پر احمدیوں نے بھی چراغاں کیا۔تو کیا جائے اعتراض ہے۔یہ امر ضرور قابل افسوس ہے کہ لڑکی نے جرمنی کے ساتھ متحد ہو کر اعلان جنگ کیا تھا۔اور جرمنی کی شکست کے ساتھ اسے بھی شکست ہوئی۔واضح رہے کہ عراق کے فتح کرنے میں ہندوستانی فوجوں کا بھی بہت کچھ دخل تھا۔اور اس میں بڑی تعداد ہندوستانی فوجیوں کی تھی۔جن میں ہزاروں حنفی، شیعہ یا اہل حدیث شامل تھے۔اس وقت اہل حدیث کے لیڈر سلطان ابن سعود انگریزوں کی پشت پر تھے۔جنہوں نے لڑکی پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضہ میں کرناشروع کر دیا تھا۔ادھر ترکی کے رویہ کو نا پسند کرتے ہوئے عرب میں شریف حسین اور فلسطین، شام اور لبنان کے مسلمانوں نے فورا ہی لڑکی سے بغاوت کا اعلان کر دیا۔برق صاحب نے حرف محرمانہ کے صفحہ ۲۰۵ پر الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء کے حوالہ سے خلیفہ مسیح کی یہ عبارت پیش کی ہے۔” حضرت عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہایا اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہو کر چلے گئے۔“ برق صاحب نے اس پر یہ نوٹ دیا ہے :- کس لئے ؟ جہاد کے لئے ؟ جہاد تو حرام تھا ؟ خوشنود کی انگریز کے لئے خواہ اللہ ناراض ہی رہے ظاہر ہے کہ جب آپ اللہ کی وحی یعنی ممانعت جہاد کی خلاف ورزی کریں گے تو خدا کا غضب پھڑ کے گا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۰۵)