تحقیقِ عارفانہ — Page 266
۲۶۶ کیا جاتا ہے۔تو آپ نے اس خیال سے کہ نفس متعہ میں کوئی بات خلاف نکاح نہیں۔اجتہادی طور پر پہلی رسم کے لحاظ سے اجازت دے دی۔لیکن خدا تعالی کا یہ ارادہ تھا کہ جیسا کہ عرب کی صدہا اور بیہودہ رسمیں دور کر دی گئیں۔ایسا ہی متعہ کی رسم کو بھی عرب میں سے اٹھا دیا جائے۔سوخدا نے قیامت تک کے لئے متعہ کو حرام کر دیا۔ماسوا اس کے یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ نیوگ کو متعہ سے کیا نسبت ہے۔نیوگ پر تو ہمارا یہ اعتراض ہے کہ اس میں خاوند والی عورت باوجو د زندہ ہونے خاوند کے دوسرے سے ہم بستر کرائی جاتی ہے۔لیکن متعہ والی عورت تو کسی دوسرے کے نکاح میں نہیں رہتی۔بلکہ پا کر دیا ہیدہ ہوتی ہے۔جس کا ایک مقررہ وقت تک ایک شخص سے نکاح پڑھا جاتا ہے۔پس خود سوچ لو کہ متعہ کو ٹیوگ سے کیا نسبت ہے۔اور نیوگ کو متعہ سے کیا (آریہ دھرم صفحه ده) مناسبت ہے۔“ اس کے بعد برق صاحب کے پیش کردہ اقتباس کی عبارت آتی ہے جسے انہوں نے ادھورا پیش کیا ہے۔یہ اقتباس صفحہ دیا صفحہ اے کا ہے اس کے پورے الفاظ یوں ہیں :- ” جب گوروں کو اس ملک میں نکاح کی ضرورت ہوئی۔تو مذہبی روکوں کی وجہ سے نکاح کا انتظام نہ ہو سکا۔اور نہ گورنمنٹ اس فطرتی قانون کو تبدیل کر سکی۔جو جذبات شہوت کے متعلق ہے۔آخر یہ قبول کیا گیا۔کہ گوروں کا بازاری عورتوں سے نا جائز تعلق ہو۔کاش اس جگہ پر متعہ بھی ہو تا تو لاکھوں بندگانِ خدا زنا سے تویچ جاتے۔ایک مرتبہ گورنمنٹ نے گھبرا کر اس قانون کو منسوخ بھی کر دیا۔مگر چونکہ فطرتی قانون تقاضا کرتا تھا کہ جائز طور پر یا نا جائز طور پر ان جذبات کا تدارک کیا جائے کہ جس سے جسمانی بیماریاں زور مارتی ہیں۔لہذا اسی پہلے قانون کو جاری کرنے کے لئے اب پھر سلسلہ جنبانی ہو رہی ہے۔“ (آرید دھرم صفحه ۷۱)