تحقیقِ عارفانہ — Page 257
۲۵۷ نے اسے پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک کے قتل کے لئے بھیجا ہے۔لیکن جب انگریز حاکم کیپٹن ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور پر تصرف الہی سے یہ حقیقت کھل گئی کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے اور پادریوں نے اس میں بناوٹ اور قریب سے کام لیا ہے تو اس نے آپ کو عزت کے ساتھ بری کر دیا۔ایک دجال سے اس قسم کے انصاف کی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔اگر چہ پادری مارٹن کلارک نے اس انگریز حاکم کو اپنے دجل کا شکار کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی آپ کے خلاف بطور گواہ پیش کیا۔لیکن انگریز حاکم پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔اور اس نے انصاف کا دامن نہ چھوڑا۔ان وجوہ سے یہ حکومت قابل تعریف اور آپ کے شکریہ کی مستحق تھی نہ کہ دجال اکبر کہلانے کی مستحق۔اگر حضرت مسیح موعود غلامانہ ذہنیت رکھتے تو یہ جانتے ہوئے کہ انگریز ہم پر مسلط ہیں جن کا مذہب عیسائیت ہے۔کبھی عیسائیت کے خلاف ایسی کڑی تنقید نہ کرتے۔جس سے مسیح کی خدائی کا ستون گر جائے۔اور صلیب کے پر نچے اڑ جائیں۔یہ آپ کی صحیح اسلامی روح کا نتیجہ تھا۔کہ مذہبی تنقید کی جو آزادی انگریزی حکومت نے دے رکھی تھی۔اس سے آپ نے خوب فائدہ اٹھایا۔اور مسیح کی خدائی کو ساری دنیا میں باطل کرنے اور صلیب کو پاش پاش کرنے کے لئے ایک جماعت تیار کی۔جس کے ذریعہ اب اکناف عالم میں اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے۔اور عیسائیت کا طلسم دھواں بن کر اڑ رہا ہے۔دنیا کے کئی متمدن اور غیر متمدن علاقوں میں اب احمدی مشنری خدا تعالی کے فضل سے باحسن وجود اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔اور عیسائیوں کو یہ احساس ہوتا جارہا ہے کہ دنیا کا آئندہ مذہب اب اسلام ہو گا۔نہ کہ عیسائیت چنانچہ جارج برناڈشا ایک برطانوی ادیب رقمطراز ہیں :- " مجھے یقین ہے کہ ساری بر طانوی سلطنت ایک قسم کا اصلاح شدہ اسلام اس