تحقیقِ عارفانہ — Page 256
۲۵۶ انگریزی تسلط کو سکھوں کی ظالمانہ حکومت کے بالمقابل ایک نعمت سمجھ رہے تھے۔اس لئے حضرت اقدس کا قومی فیصلہ کے مطابق جو کہ دراصل شرع کے مطابق بھی تھا انگریزوں کی وفاداری کی تعلیم دینا ہر گز یہ معنی نہیں رکھتا کہ آپ یہ تلقین فرمار ہے تھے کہ مسلمان سدا انگریزوں کے غلام رہیں۔آپکو قرآن مجید اور احادیث کی پیشگوئیوں کی بناء پر یہ یقین تھا۔کہ انگریز اور یورپ کی سب قو میں بالآخر مسلمان ہو جائیں گی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔"منتخب الله لينَّ أنَا وَرُسُلِي (المجادله : ۲۲) یعنی خدا نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔نیز حدیث میں وارد تھا۔"يُهْلِكَ اللهُ فِي زَمَانِهِ المِللَ كُلَّهَا إلى الإسلام " کہ خدا تعالیٰ مسیح موعود کے زمانہ میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک ( مغلوب) کر دے گا۔اس لئے آپ کو یہ خطرہ ہر گز نہ تھا کہ مسلمانوں کو سدا انگریزوں کے ماتحت رہنا پڑے گا۔آپ موجب حدیث نبوی " فيكسر الصليب كسر صلیب کے لئے مامور تھے۔جس کی آپ نے اپنے زمانہ میں بنیاد رکھ دی۔اور عیسائیت کے ظلم کو پاش پاش کرنے میں پوری کوشش کی۔حتی کہ ملکہ وکٹوریہ کو بھی زور دار الفاظ میں مسیح کو خدا ماننے کے عقیدہ اور صلیب پر مرنے کے عقیدہ کو چھوڑنے اور اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دی۔انگریزوں نے جو نہ ہی آزادی دے رکھی تھی اس کی وجہ سے آپ سے کوئی تعرض نہ کیا۔بلکہ آپ نے اس آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔اور حضرت مسیح کی خدائی کے ستون کو پاش پاش کر دیا۔اور انہیں خدا تعالی کا ایک بندہ اور رسول ثابت کیا۔حضرت اقدس کی عیسائیت پر مذہبی تنقید کی وجہ سے پادریوں نے غصہ میں آ کر آپ کے خلاف اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیا۔اور ایک مسلمان لڑکے عبد الحمید کو دام میں لا کر بطور گواہ کے انگریزی عدالت میں پیش کیا۔کہ مرزا صاحب