تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 254 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 254

۲۵۴ ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کو بعد از ہجرت پناہ مل سکے۔انگریزی دور کے آخری حصہ میں کانگرس کے ساتھ مل کر بعض علماء نے مسلمانوں کو ہجرت کر جانے کی تلقین کی اور کئی مسلمان ریاست کابل میں ہجرت کر کے چلے بھی گئے۔لیکن اس ترک وطن کا ایسا عبر تناک انجام ہوا کہ وہ لوگ لوٹے کھوٹے گئے۔اور پھر جو تیاں چمٹاتے واپس ہندوستان آئے۔اور انہوں نے انگریزی سلطنت میں ہی امن پایا۔متشد دانه یا لیسی کی دوبارہ ناکامی انگریزی حکومت کے آخری دور میں ۱۹۱۴ء میں بعض علماء نے تشدد اور جارحیت اختیار کرتے ہوئے انگریزی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ایک انقلابی پروگرام تجویز کیا جس کا خمیازہ ہندوستان کے بعض مسلمانوں اور دوسرے ہندوستانی باشندوں کو نہایت عبرتناک رنگ میں بھگتنا پڑا۔ہزاروں نفوس جیل میں ڈال دیئے گئے۔سینکڑوں تختہ دار پر لٹکا دئیے گئے اور انگریزی تسلط پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گیا۔۱۸۵۷ء کے بعد تشدد کے اس دوسرے تجربہ کی ناکامی نے مولوی محمود الحسن صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی آنکھیں کھول دیں اور بالآخر وہ ۱۹۲۰ ء میں یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان کا متشد دانہ مسلک غلط ہے چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو اعتراف ہے۔وو ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں علماء شریک ہوئے اور ناکامی کے بعد مارے گئے کچھ قید ہوئے۔ہزاروں انسان قتل ہوئے۔شہزادے قتل ہوئے ان کا خون کیا گیا۔ان مصیبتوں کے بعد ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اسلامی حکومت قائم کرنے کا خیال شکست کھا گیا۔اس کے بعد پھر ۱۹۱۴ ء میں علماء کی ایک جماعت نے اسی خیال سے یعنی مسلم راج قائم کرنے کے خیال سے تحریک شروع کی۔اور اس میں بھی شکست کھائی۔اس کے بعد ۱۹۲۰ ء میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیو بند مالٹا سے رہا ہو کر تشریف لائے۔دہلی