تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 240 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 240

۲۴۰ ہندوستان کے اہل ہیں سلطنت انہی کا حق ہے۔اسی پر حال رہنی چاہیے۔" (ایضا ص ۲۶-۲۷) جناب ق صاحب ! آپ کے مجاہد اعظم مولانا ظفر علی خان صاحب لکھتے ہیں :- زمیندار اور اس کے ناظرین گورنمنٹ برطانیہ کو سایہ خدا سمجھتے ہیں اور اس کی عنایت شاہانہ و انصاف خسروانہ کو اپنی دلی ارادت و قلبی عقیدت کا کفیل سمجھتے ہوئے اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرے کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے۔“ زمیندار ۹ نومبر ۱۹۱۱ء) پھر سر ۱۸۵ء کے زمانہ کے ایک بزرگ مولانا محبوب علی دہلوی کے حالات اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن میں حوالہ کتاب ارواح ثلاثہ لکھا گیا ہے۔" ندر کے انہی دنوں میں آپ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کے فتویٰ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔انگریز سمجھے کہ کوئی ہمارا اپنا ہد ہ ہے انہوں نے اس صلہ میں آپ کو گیارہ گاؤں بطور انعام دینے کی خواہش کی آپ نے پروانہ چاک کر ڈالا اور کہا کہ میرے نزدیک مسئلہ یونہی تھا۔“ امید ہے کہ جناب برق صاحب ان سب آراء اور فتاوی کو ملاحظہ کر کے اپنی ان سب آرا رائے پر نظر ثانی فرمائیں گے۔جناب برق صاحب کی تلپیس جناب برق صاحب نے حضرت اقدس کی دجالی فتنہ کے متعلق بعض عبارات پیش کر کے محض اس وجہ سے کہ ان میں حضرت اقدس نے عیسائی قوم سے دجالی فتنہ کا خروج بیان فرمایا ہے۔غلط طور پر یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت اقدس کے نزدیک ہندوستان کی انگریزی حکومت دجال اکبر تھی۔حالانکہ