تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 219 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 219

٢١٩ ہے کہ :- ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں (حقیقۃ النبوۃ صفحہ ۱۳۸) اس سے خلاف منشائے متکلم یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے بعد کسی نبی کے امکان کے قائل نہیں۔حالانکہ پوری عبارت اس جگہ یوں ہے :- ” پس جن لوگوں کے نزدیک تعریف نبوت یہ ہے نہ وہ جو ہم بیان کرتے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود کو دیگر محدثین میں شامل کرتے ہیں کو کسی قدر بڑے درجہ کا محدث کہتے ہیں۔ہم چونکہ اس کے خلاف تعریف کرتے ہیں اور وہ اس امت میں کسی اور انسان پر بجز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صادق نہیں آتی۔اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔آئندہ کا حال پر وہ غیب میں ہے۔اس کی نسبت ہم کچھ کہہ نہیں سکتے۔آئندہ کے متعلق ہر ایک خبر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔اس پر بحث کرنا انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیں گذرا۔کیونکہ اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی۔اس ساری عبارت کو پڑھنے کے بعد اور بالخصوص آخری سے پہلے فقرہ کو پڑھنے کے بعد ہر سلیم الفطرت اس نتیجہ پر آسانی سے پہنچ سکتا ہے کہ محترم برق صاحب نے اس جگہ حوالہ کو پیش کرتے ہوئے منشائے متکلم کے بالکل خلاف ”دوسرا پہلو کے عنوان کے تحت یہ نتیجہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت خلیفۃ اصح الثانی ساری امت محمدیہ میں ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔حالانکہ آپ کا منشاء برق صاحب کے پیش کردہ فقرہ سے صرف یہ ہے کہ اس وقت تک امت میں کوئی شخص نبی نہیں گذر اندہ کے متعلق آپ نے کوئی حکم نہیں لگایا نہ امکان کا نہ امتناع کا۔بلکہ 65 (حقیقة النبوۃ صفحہ ۱۳۸)