تحقیقِ عارفانہ — Page 214
۲۱۴ تامہ متحقق ہو۔پس ایک مسیح محمدی کا جو حضرت عیسی کا مثیل ہو از روئے قرآن مجید آتا ضروری قرار پایا۔محترم برق صاحب جیلوں اور بہانوں سے منشاء قرآن کو چھپایا نہیں جا سکتا۔آپ اپنے اقبال کے مطابق یہی کہہ لیں کہ سلسلہ موسوی اور سلسلہ محمدی میں جزوی مشابہت ہے۔بہر حال اتنا تو آپ بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسے سلسلہ موسوی کے آخری نبی ہیں۔پس لست محمدیہ میں ایک خلیفہ کے لئے ممکن ہوا کہ وہ حضرت عیسے کے رنگ میں رنگین ہو اور وہ خاتم الخلفاء قرار پائے اور یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ خلیفہ احادیث نبویہ کے مطابق ہمارے زمانہ چودہویں صدی میں ظاہر ہو گیا ہے۔جس سے انکار کے لئے محترم برق صاحب نئی نئی راہیں ایجاد کر رہے ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اعتراض دوم برق صاحب کو دوسرا اعتراض مماثلت پر یہ ہے کہ ان کے نزدیک موسیٰ اور مسیح کے درمیان جو زمانہ ہے وہ اس زمانہ سے مماثلمت تامہ نہیں رکھتا جو آنحضرت نے اور بانی سلسلہ احمدیہ کے درمیان پلیا جاتا ہے انہوں نے ایک حساب پیش کیا ہے۔چونکہ ان کی طبیعت میں کجی تھی اس لئے انہوں حساب کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے جس سے ان کی مطلب بر آری ہو۔حضرت موسیٰ اور حضرت حدیث میں نازل ہونے والے ابن مریم کو اِمَامُكُم مِنكُمْ کہہ کر امت محمدیہ کا ایک فرد قرار دیا گیا ہے اور دوسری حدیث میں اس کا کام يَكْسِرُ الصَّليب ( عیسائیت کا ابطال ) بتا کر چودہویں صدی کے زمانہ میں اسکے ظہور کے متعلق اشارہ کر دیا گیا ہے۔کیونکہ تیرھویں صدی کے آخر میں صلیبی مذہب یعنی عیسائیت ساری دنیا پر غالب ہو چکی تھی۔