تحقیقِ عارفانہ — Page 209
۲۰۹ ہوتا ہے۔خواہ وجہ شبہ اس جگہ ایک ہی امر ہو۔استعارہ بھی تشبیہ پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔اور اس میں اور عام تشبیہ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ عام تشبیہ میں تو مشبہ اور مشہر بہ اور حرف تشبیہ مذکور ہوتے ہیں۔لیکن استعارہ میں حرف تشبیہ اور مشبہ کا ذکر حذف کر دیا جاتا ہے اور صرف مشبہ بہ کا ذکر ہوتا ہے اور مراد اس سے مشبہ کا وجود ہوتا ہے۔جیسے ہم کہیں آسدُ نَافِی الحَمام ہمارا شیر حمام میں ہے۔اور شیر سے مراد مثلا زید ہو سو اس جگہ تشبیہ بھی موجود ہے اور وجہ شبہ بھی صرف ایک جزوی امر یعنی بہادری ہے لیکن حرف تشبیہ اڑا کر مشابہت نامہ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔پس استعارہ میں مشابہت تامہ ہی کا ادعا ہو تا ہے۔خواہ اس جگہ مشبہ اور مشبہ یہ میں صرف ایک ہی وجہ شبہ پائی جائے اور گما کا حرف استعمال کرنے کی صورت میں مطلق تشبیہ مراد ہوتی ہے۔لہذا اس صورت میں مشابہت تامہ اور ناقصہ دونوں کے پائے جانے کا احتمال ہوتا ہے۔پس اگر مشبہ اور مشبہ بہ میں سے مشبہ ( تشبیہ دیا گیا) افضل وجود ہو تو خواہ اس جگہ چند جزوی امور میں ہی یا صرف ایک ہی امر میں مشابہت ہو۔اس جگہ مشابہت نامہ ہی سمجھی جائے گی۔آنحضرت نے قرآن کریم میں كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَونَ رَسُولاً کے الفاظ میں موسیٰ" کی مانند ہی قرار دئیے گئے ہیں اور کما کے ذریعے ہی آپ کو حضرت موسیٰ سے مشابہت دی گئی ہے۔مگر آپ کو خاتم النبین کہہ کر تمام انبیاء کے کمالات کا جامع بھی ظاہر کیا گیا ہے اس لئے آپ حضرت موسیٰ سے افضل ہیں۔اور جب افضل ہیں تو اہم وجوہ شبہ میں آپ کی حضرت موسیٰ سے مشابہت تامہ ہی قرار دی جائے گی۔بہر حال امت محمدیہ کا مسیح موعود وہ ہے جو حضرت عیسی سے کئی اہم امور میں مشابہت رکھتا ہے اور حضرت عیسی سے افضل بھی ہے۔اس لئے اس کی مسیح ناصری سے مشابہت تامہ ہی قرار دی جائے گی۔اس طرح سلسلہ محمدی کے اول نبی اور