تحقیقِ عارفانہ — Page 208
۲۰۸ برق صاحب کی اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں صرف حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے سلسلہ موسوی اور محمدی میں مشابہت تامہ " قرار دینے پر اعتراض ہے نہ کہ جزوی مشابہت پر اور اسی طرح ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کو موسی سے مشابہ قرار دینے میں کچھ جزوی مشابہتیں مراد ہیں نہ کہ تمام جزوی امور میں مشابہت۔اعتراض کا جواب اب اس اعتراض کے جواب میں عرض ہے کہ محترم برق صاحب کی ساری حث صرف ایک نزاع لفظی پر مشتمل ہے انہیں یہ تو مسلم ہے کہ آنحضرت قرآن میں موسیٰ کی مانند نبی قرار دیئے گئے ہیں اور انہیں یہ بھی مسلم ہے کہ محمدی اور موسوی دونوں سلسلوں کے خلفاء میں جزوی مشابہت ہونی چاہیئے نہ کہ مشابہت نامہ۔دلیل ان کی یہ ہے کہ ان آیات میں لفظ کما آیا ہے۔جو حرف تشبیہ ہے اور جزوی مشابہت کو چاہتا ہے۔اس دلیل کے جواب میں عرض ہے کہ بے شک گھا وہاں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جہاں دو وجو دوں میں صرف ایک ہی امر میں جزوی مشابہت ہو جیسے ہم یہ کہیں کہ زید شیر کی مانند ہے تو وہاں صرف بہادری میں مشابہت ہو گی۔لیکن حرف تشبیہ خفا اس بات کے لئے قطعی دلیل نہیں کہ جہاں استعمال کیا جائے وہاں ضروری طور پر صرف ایک ہی وجہ شبہ مد نظر ہو گی چنانچہ خود برق صاحب نے آنحضرت ﷺ کو موسیٰ سے دی گئی مشابہت میں چار وجوہ شبہ لکھ کر آگے وغیرہ وغیرہ دے کر اور وجو و شبہ کہ موجود ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔حضرت اقدس کے نزدیک بھی مشابہت تامہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ مشبہ اور مشبہ بہ کے در میان مشابہت تامہ کی صورت میں تمام جزوی امور میں مشابہت کا پایا جانا ضروری ہے۔بلکہ مشابہت تامہ کے لئے علم بلاغت کی رُو سے صرف ایک ہی وجہ شبہ میں بھی علی وجہ الا تم تشبیہ کا پایا جانا کافی ہوتا ہے۔جیسا کہ استعارہ میں مشابہت تامہ کا ہی دعوئی