تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 201 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 201

۲۰۱ بھی ایسا کر تا تو میں اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ دیتا۔پس اگر فرشتہ کے افتراء کرنے پر اس کی قطع و تین ہو سکتی ہے تو یہ سزا اس انسان کو بدرجہ اولی ملنی چاہئے جو افتراء سے کوئی قول خدا کی طرف سے منسوب کرے۔فرشتے اور ان کی قطع و تین تو انسانوں کو نظر ہی نہیں آسکتی کہ دلیل افتراء بن سکے انسان کی قطع و تین یا اس کا قطع و تین سے بچ جانا ہی انسانوں کو نظر آسکتا ہے جس سے اس انسان کے مفتری یا منجانب اللہ ہونے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔پس جب فرشتے کے لئے بقول برق صاحب افتراء کرنے پر قطع و تین کی سزادی جاسکتی ہے تو یہی سزابدرجہ اولیٰ انسان کو خدا پر افتراء کی صورت میں دی جانی چاہئے ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔اور اس جگہ اسبات کے لئے کوئی مرچ موجود نہیں کہ فرشتہ افتراء علی اللہ کرے تو اس کی سزا تو قطع و تین ہی ہونی چاہیئے۔لیکن انسان افتراء علی اللہ کرے تو اس کی سزا قطع و قین نہ ہو گی۔ترجیح بلا مرجج چونکہ جائز نہیں۔لہذا انسان کے مفتری علی اللہ ہونے پر بھی ایسی ہی سزاملنی چاہیئے کیونکہ مخلوق خدا کا مفاد تو اسی میں ہے کہ مدعی الہام انسان کے متعلق اسے تسلی ہو کہ وہ مفتری علی اللہ ہے یا منجانب اللہ۔فرشتوں کے افترا علی اللہ کرنے کا تو اس کے ذہن میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔پس پبلک کے مفاد کی خاطر مفتری علی اللہ انسان کو سزا ضرور ملنی چاہیئے تا صادق اور کاذب کے درمیان فرق ہو جائے۔فرشتے تو عام انسانوں کے سامنے وحی لے کر آیا ہی نہیں کرتے لہذا معترضین انسان کو ہی مفتری علی اللہ قرار دے سکتے ہیں۔نہ وحی لانے والے فرشتہ کو۔ان کا تو اعتراض یہ ہوتا ہے کہ فرشتوں سے اس مدعی کا کوئی تعلق نہیں۔مفتری علی اللہ کے متعلق برق صاحب کی پیش کردہ آئیتیں برق صاحب نے مفتری علی اللہ اور جھوٹے مدعیان الہام سے متعلق دو اور آئیتیں قرآن کریم سے پیش کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایسے لوگوں کی سز ایا تو ناکامی ہے یا