تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 202 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 202

٢٠٢ اگلی دنیا میں جنم یا صرف لعنت۔وہ دو آئینیں یہ ہیں۔ا قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى قتل۔(طه: ۶۲) اس آیت سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مفتری علی اللہ نا کام ہوتا ہے نہ کہ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِباً أَوقَالَ أُوحِيَ إِلَى وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْى وَمَنْ قَالَ سَأَنْزَلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللهُ ، وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ط ط وَالمَلْئِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كنتُم تَقُولُونَ عَلَى اللهِ غَيْرَ الحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ (الانعام : ٩٤) یہ آیت آپ نے اس بات کے ثبوت میں پیش کی ہے کہ جھوٹا نبی اپنی موت تک مہلت پاتا ہے اور اس کی سزا کا سلسلہ بعد از موت شروع ہوتا ہے۔اگر برق صاحب کی تفسیر مان لی جائے تو ان کی بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ اگر فرشتہ افتراء علی اللہ کرے تو اسے تو دنیا میں ہی قطع و تین کی سزا مل جاتی ہے۔لیکن اگر کوئی انسان افتراء علی اللہ کرے تو اسے صرف ناکامی ہوتی ہے۔گویا ان کے نزدیک یہ آئیتیں ایسے انسان کے متعلق ہیں جو مفتری علی اللہ ہو اور آیت لو تقول صرف ایسے فرشتہ سے تعلق رکھتی ہے جو افتراء کرے حالانکہ فرشتہ کے افتراء کرنے کا تو کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کے لئے سزا کی ضرورت ہوتی کیونکہ نہ تو فرشتے انسانوں کے سامنے آ کر انہیں اپنی طرف دعوت دیتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرف سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا وہم و گمان ہو سکتا ہے۔ایسا احتمال صرف انسان ہی کے متعلق پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے مفترمانہ دعویٰ کر رہا ہو۔آیات کی اصل حقیقت اصل حقیقت ان آیات قرآنیہ کی یہ ہے کہ :