تحقیقِ عارفانہ — Page 192
۱۹۲ اور صالحیت سے بھی محروم قرار دینا پڑے گا۔حالانکہ صدیق، شہید اور صالح تو پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی ہوتے رہے۔اور امت محمدیہ کو آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخر حت للناس میں خیر امت قرار دیا گیا ہے۔پس خیر امت کو پہلی امتوں سے بڑھ کر مدارج ملنے چاہیئیں۔پس مع کے معنی ظاہری رفاقت قرار دینے کے نتیجہ میں امت محمد یہ خیر امت قرار نہیں پا سکتی۔بلکہ اس کا کوئی فرد صالح بھی قرار نہیں پا سکتا۔ظاہر ہے ایسے معنی سراسر منشاء قرآن مجید کے خلاف ہیں۔اور ان معنی سے شانِ نبوی اور شانِ امت کو سخت دھبہ لگتا ہے۔لہذا اس جگہ معیت سے مراد نہ معیت زمانی کی جاسکتی ہے نہ مکانی۔بلکہ معیت فی الدرجہ مراد لینا ہی ضروری ہے۔اور ایسی معیت کے لئے ہی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی اطاعت تمام قوموں کے لئے شرط قرار دی گئی ہے صدیق، شہید اور صالح تو دوسرے تمام انبیاء کی اطاعت سے بھی ان کے امتی ہتے رہے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔66 99% «< "وَالَّذِينَ آمَنُو بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصَّدِيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ “ (الحديد :٢٠) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ صدیق اور شہید الہذا جب دوسرے رسولوں کی اطاعت پر ان کے امتیوں کو صدیقیت اور شہادت کا مرتبہ حاصل ہو سکتا تھا تو آنحضرت نے کا ان انبیاء سے بلند مقام جو خاتم النبیین کا مرتبہ ہے اپنے افاضہ میں بڑھ کر ہونا چاہیئے اور وہ افاضہ زیر بحث آیت میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی سے نبوت کی نعمت بھی اننت محمد یہ کومل سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ مع کی وہ غلط تغییر بھی پیش کی جائے گی جو برق صاحب وغیرہ پیش کرتے ہیں اس لئے اُس نے آیت میں النبیین کے بعد واو عاطفہ کے