تحقیقِ عارفانہ — Page 187
۱۸۷ ہوئی ہے اور یہ آپ کی اپنی پیشگوئی کے مطابق ہے۔لہذا اگر دانیال کی پیشگوئی میں ۱۳۳۵ھ ہجری مراد لی جائے تو یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ دانیال کی پیشگوئی میں آپ کی زیادہ سے زیادہ ممکن عمر کی آخری حد بیان ہوئی ہے۔جیسا کہ آپ کا الہام بتاتا ہے کہ آپ کی عمر ۸۰ سال کی ہو گی یا چار پانچ سال کم یا چار پانچ سال زیادہ۔برق صاحب نے ولادت نبوی یا بعثت نبوی سے سالوں کا شمار کر کے پیشگوئی مشتبہ کرنے کی کوشش کی ہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا شمار ہجرت نبوی سے درست قرار پاتا ہے۔پس دانیال نبی کی پیشگوئی کا مفاد یہ ہے کہ اقوام عالم کو ۱۲۹۰ ہجری سے ۱۳۳۵ ہجری کے درمیان مسیح موعود کے ظہور کا انتظار کرنا چاہئے۔۱۳۳۵ھ آپ کی وفات کا قطعی سنہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یہ آپ کی ممکن الہامی عمر کی آخری حد سمجھا جائے گا۔جیسا کہ قبل از میں بیان ہوا اور پیشگوئی کی صحیح تعبیر وہی ہوتی ہے جو واقعات سے درست ثابت ہو کیونکہ پیشگوئیوں میں اجمال اور ابہام ضرور رکھا جاتا ہے تاکہ اختفاء کا پردہ ایمان بالغیب کی قدر و قیمت کو ضائع ہونے سے بچائے اگر پردہ بالکل اٹھا دیا جائے تو ایمان کی قدر و قیمت آزمائش کے مفقود ہو جانے کی وجہ سے کچھ بھی باقی نہیں ر قیمت آزمائش رہتی۔نمبر ۸ میں برق صاحب نے ضمیمہ تحفہ گولڑویہ کی دو تحریر میں پیش کی ہیں اور ان میں پانچ سال کا تضاد دکھایا ہے۔حالانکہ یہ تحریر میں بھی دراصل اربعین کی ہی ہیں جن کی تصنیف کا زمانہ ۱۹۰۰ ء ہے اور ۱۹۰۳ء میں اربعین ہی تحفہ گولڑویہ میں بطور ضمیمہ کے بھی شامل کر دی گئی تھی۔مگر برق صاحب اس حقیقت سے واقف نہیں وہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ کو اربعین سے کوئی الگ کتاب سمجھ کر حساب لگا رہے ہیں۔پہلی عبارت میں مکالمات الہیہ کا زمانہ قریباً تیس سال اندازے سے لکھا گیا ہے اور دوسری عبارت ایک معین الہام کے متعلق ہے جو آپ کی عمر سے تعلق