تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 182 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 182

۱۸۲ ازالہ اوہام ۱۸۹۱ء کی تصنیف ہے جس میں آپ لکھتے ہیں۔" وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔کیونکہ اول تو ایساد عولی اس عاجز سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا۔اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۶۹۵ طبع اوّل) اس عبارت میں آدم اور ابن مریم کے الہامی دعویٰ کا ذکر ہے۔اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۹۱ء سے دس برس پہلے ہی ۱۸۸۱ء میں آپ کو الہام میں آدم اور ان مریم قرار دیا گیا تھا۔آپ اس جگہ ماموریت کے متعلق دعوی کو زیر بحث نہیں لارہے۔اور دس برس بھی اند از ابیان کیا گیا ہے۔پس ان الہامات کا زمانہ اور ماموریت کا زمانہ اگر قریب قریب ہو تو بھی نشان آسمانی اور شہادت القرآن کی عبارتوں سے اس کا کوئی تضاد پیدا نہیں ہو تا۔جناب برقی صاحب نے براہین احمدیہ کا سال تصنیف ۱۸۸۰٬۸۴ء لکھا ہے پھر لکھتے ہیں کہ اس کتاب میں ایک مقام پر ۱۸۶۹ء کا الہام درج کرتے ہیں۔جسے وہ خر تک اپنی دیگر تصانیف میں دہراتے چلے جاتے ہیں اور وہ یہ ہے :- ”وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ یہ الہام بے شک ۱۸۲۸ء یا ۱۸۶۹ء کا ہے۔مگر اس وقت آپ پر اپنی ماموریت کے بارہ میں کوئی انکشاف نہیں ہوا تھا اور پھر حضرت اقدس نے اس الہام کو اپنا پہلا الہام بھی قرار نہیں دیا۔کہ اس سے آپ پر وحی کے آغاز کی تاریخ معین ہوتی۔پس بر امین احمدیہ میں مندرجہ الہام کا دوسری کتب کی عبارتوں سے کوئی تضاد نہیں۔چھٹے نمبر پر برق صاحب نے جون ۱۹۰۰ ء کی تصنیف اربعین کا یہ حوالہ درج کیا ہے۔