تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 165 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 165

۱۶۵ منہ بند کرنے والی ہو اس اصل کے ماتحت جائز ہے۔اس لئے علمائے اسلام عیسائیوں وغیرہ کے بالمقابل الزامی جواب دیتے رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس طریق کلام کو اختیار کرنے کی وجہ نور القرآن نمبر ۲ ناظرین کے لئے ضروری اطلاع“ کے عنوان کے ماتحت خود یوں رقم فرماتے ہیں۔ا۔”ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا جس نے جائے مہذبانہ کلام کے ہمارے سید و موٹی نبی ﷺ کی نسبت گالیوں سے کام لیا ہے اور اپنی خباثت سے اس امام الطیبین و سید المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے۔لہذا محض ایسے یادہ گولوگوں کے علاج کے لئے جواب ترکی بتر کی دینا پڑا ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک ! عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کے بچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ پر دل و جان سے ایمان لائے تھے۔اور حضرت موسی کی شریعت کے صد با خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔پس ہم انکی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اولین اور آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا۔یعنی ان بد کاریوں کا مر تکب خیال کرتا تھا۔جن کی سز ا لعنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔قرآن نے ہمیں اس گستاخ اور بد زبان یسوع کی خبر نہیں دی۔اس شخص کے چال چلن پر ہمیں نهایت حیرت ہے جس نے خدا پر مرنا جائزر کھا اور آپ خدائی کا دعوی کیا اور ایسے پا کوں کو جو ہزار درجہ اس سے بہتر تھے گالیاں دیں سو ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا