تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 163 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 163

۱۶۳ مرزا صاحب کے لئے اس پیروی کا جواز کہاں سے نکل آیا۔“ الجواب (حرف محرمانه صفحه ۹۳) یہودیوں نے یہ اعتراضات حضرت مسیح علیہ السلام پر از راہ شرارت کئے تھے کیونکہ عیسائیوں نے ان کے مسلمہ انبیاء پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔پس یہودیوں کا طریق جارحانہ اور ظالمانہ تھا۔حضرت اقدس کے زمانہ میں عیسائی یہودیوں کے طریق پر اسلام اور بانی اسلام ملے پر حملہ آور ہوئے تھے اس لئے آپ کو یہودیوں کے اسلام ع اعتراضات جارحانہ طور نہیں بلکہ مدافعانہ طور پیش کرنا پڑے آیت لا يُحِبُّ الله الجهر بالسُّوءِ مِنَ القَوْل إِلَّا مَن ظلِمَ (النساء : ۱۴۹) یعنی خدا تعالٰی اعلامیہ بُری بات کو پسند نہیں کرتا بجز اس صورت کے کہ کوئی شخص مظلوم ہو۔(اور سخت الفاظ استعمال کرے) اس مدافعانہ طریق کو جائز قرار دیتی ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں۔" جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسی اور ان کی انجیل پر حملہ کرتے ہیں۔اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت مے پر کرتے ہیں۔عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس طریق بد میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔“ (چشمه مسیحی صفحه ج طبع اول) پس عیسائی چونکہ اسلام اور بانی اسلام پر ظالمانہ طریق سے ناپاک حملے کرتے تھے ان کے مقابلے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نقل کفر کفر نباشد کے مطابق یہودیوں کے اعتراضات نقل کر کے عیسائیوں کو توجہ دلائی ہے۔تا اس طریق