تحقیقِ عارفانہ — Page 157
۱۵۷ دعوی کر دیتے۔لیکن چونکہ آپ نفسانیت اور بناوٹ سے پاک تھے اس لئے آپ اپنے پہلے رسمی عقیدہ پر جمے رہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور وہ دوبارہ آئیں گے اور خدا تعالیٰ کی وحی کو آپ نے ظاہر پر حمل نہ کیا۔بلکہ اس وحی کی یہ تاویل کی کہ میں حضرت صبح سے شدید مشابہت رکھتا ہوں اور جب تک خدا تعالیٰ نے آپ پر اصل حقیقت خود نہیں کھولی کہ مسیح بن مریم فوت ہو گئے ہیں اور پیشگوئیوں کے مطابق آپ ہی صحیح موعود ہیں تو آپ پہلے رسمی عقیدہ پر ہی جھے رہے۔ان مخالفین میں سے اگر کوئی اس سارے معاملہ کو آپ کی سادگی اور عدم تصنع پر محمول قرار نہ دے تو اسے بجز اس کے اور کیا جواب دیا جا سکتا تھا کہ اگر تمہیں آپ کی سادگی اور عدم تصنع مُسلم نہیں تو پھر تم ہی بتاؤ اس کا موجب اور کیا امر ہے ؟ اسی صورت میں یہ مطالبہ آپ کا مخالفین سے کیونکر ناجائز قرار دیا جاسکتا ہے کیوں یہ صحیح منطق پر مشتمل نہیں ؟ جناب برق صاحب ! دو اور دو چار یا دو اور دو اٹھارہ کی مثال اس جگہ صادق نہیں آسکتی۔بلکہ یہ مثال صادق آتی ہے کہ جب کوئی دو اور دو کو چار نہ مانے تو پھر اس سے سوال ہو گا کہ پھر تم خود ہی بتاؤ کہ دو اور دو چار نہیں ہوتے تو کتنے ہوتے ہیں ؟ یہ سوال اس موقع پر صحیح منطق ہو گا۔کاش برق صاحب حقیقت بین نگاہ سے غور فرماتے۔یمنی سوال کا جواب باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ بارہ سال تک کیوں آپ کو وحی کا مطلب سمجھ نہ آسکا۔ہر رسول کا فرض منصبی ہوتا ہے کہ وہ اپنی وحی کی تبلیغ کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ۔آپ نے اس وحی کا جو مطلب سمجھا تھا کہ میں مسیح سے اشد مشابہت رکھتا