تحقیقِ عارفانہ — Page 155
۱۵۵ ہے۔اصالتا ابن مریم کا لفظ اہطور استعارہ ہے اور آپ کو لائن مریم کا نام بھی پیشگوئیوں میں بطور استعارہ دیا گیا ہے۔اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر آپ نے یہ لکھا ہے۔سویقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا این مریم یہی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۶۵۹ طبع اوّل) اور اسی استعارہ کی تشریح میں آپ نے کشتی نوح میں لکھا ہے۔اس (اللہ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔۔۔مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفی کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینوں کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسی بنایا گیا۔کشتی نوح صفحہ ۴۶ طبع اوّل) اسی حقیقت کو مولانا روم یوں بیان کرتے ہیں۔ہنچو مریم جان از آسیب حبیب حامله شد از مسیح دلفریب (مثنوی) یعنی ایسے مومن کی جان پر جو مریم صفت ہو جب حبیب کا سایہ پڑا تو وہ دلفریب مسیح سے حاملہ ہو گئی۔پس یہ مومن کی ولادت معنوی ہی ہے جس سے وہ پہلے بزرگوں کا مثیل بتا ہے۔کاش آپ اس حقیقت کو سمجھتے۔پس حضرت اقدس کا مسیح موعود ہونے سے انکار کم فہم لوگوں کے خیالی مسیح موعود ہونے سے انکار ہے اور آپ کا مسیح موعود کے دعوئی کا اقرار صرف ان معنی میں ہے کہ آپ مسیح بن مریم کے فیل ہیں اور پیشگوئیوں کا موعود مسیح در اصل میل مسیح تھا نہ کہ حقیقت ان مریم پس مسیح موعود ہونے سے انکار الگ جہت ہے اور اقرار دوسری الگ جہت سے ہے لہذا دونوں قسم کی عبارتوں میں کوئی تناقض اور تضاد موجود نہیں لولا