تحقیقِ عارفانہ — Page 151
۱۵۱ دیکھئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔سبَابُ المُسلِم فَسُوقُ وَقِتَالَهُ كُفَرُ اس حدیث میں گو کفر کا لفظ فسق کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے تاہم یہ کفر کا لفظ اس جگہ اضافی حیثیت ہی رکھتا ہے۔اور ایسا شخص جو ایک مسلمان کو قتل کر دے اگر پانچوں ارکان اسلام کے ماننے کا دعویدار ہو تو وہ اسلام کے ظاہری دائرہ سے خارج نہیں ہو جاتا۔ہاں تخلیطاً ایسے شخص کے لئے کا فریا خارج از اسلام کے الفاظ کا استعمال بر محل ہوگا۔کیونکہ اس کا یہ فعل کا فروں والا ہے مسلمانوں والا نہیں۔اسی طرح رسول اللہ یہ بھی فرماتے ہیں۔"مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِيَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمُ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ۔“ ( مشکو تباب الظلم ) کہ جو شخص ایک ظالم کے ساتھ اس کی تائید کے لئے چلا یہ جانتے ہوئے کہ وہ ظالم ہے تو بے شک وہ اسلام سے نکل گیا۔“ اس حدیث میں خرج من الاسلام کے الفاظ بھی اضافی کفر کو بیان کرنے کے لئے وارد ہیں۔ایسے لوگ کفر کے باوجود اسلام کی ظاہری چار دیواری سے خارج نہیں سمجھے جاتے اور مسلمان ہی کہلاتے ہیں۔سیح موعود کا ذکر قرآن مجید میں یہ درست ہے کہ قرآن مجید میں مسیح موعود کے نزول کی پیشگوئی کھلے کھلے اور صریح لفظوں میں موجود نہیں۔انڈابرق صاحب نے مسیح موعود کی جو عبار تیں اس بارہ میں پیش کی ہیں ان کا مفاد بھی صرف یہی ہے کہ قرآن مجید میں مسیح موعود کی پیشگوئی کھلے لفظوں میں موجود نہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اشارۃ النفس کے طور پر ایک میل مسیح کی آمد کی خبر قرآن کریم میں دی گئی تھی۔چنانچہ حضرت ہائی سلسلہ