تحقیقِ عارفانہ — Page 140
1 ۱۴۰ امتی۔“ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں :- (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۵۰،۱۴۹ طبع اول) میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔جب تک مجھے اس کی طرف سے علم نہ ہوا میں وہی کہتارہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دھوئی نہیں۔بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۵۰ ۱ طبع اول) اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام پر اپنی فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی اس وحی کی بنا پر کی ہے جو آپ پر اپنی نبوت کے بارہ میں بارش کی طرح نازل ہوئی۔پس آپ نے اپنے پہلے الہامات کی جو آپ کو نبی اور رسول قرار دیتے تھے یہ تاویل کہ آپ محدث یا جزوی نبی ہیں۔خدا تعالیٰ کی متواتر وحی کی روشنی میں ترک فرما دی ہے اور خود کو صریح طور پر نبی متواتر وحی کی بنا پر قرار دیا ہے مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔لہذا اس جگہ تحصیلدار کے گورنر کے حکم کو منسوخ کرنے کی مثال صادق نہیں آتی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی نبوت کے متعلق پہلے عقیدہ کو خود ترک فرما کر اس میں تبدیلی کا ذکر فرما دیا ہے۔جیسا کہ آپ کے اوپر کے بیان سے ظاہر ہے پس حضرت امام جماعت احمدیہ نے نسخ کے متعلق جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے بیان کی بنا پر تحریر فرمایا ہے۔دوسری وجہ دوسری وجہ برق صاحب نے یہ لکھی ہے :-