تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 139 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 139

۱۳۹ بیان کو جناب برق صاحب نے پانچ وجوہ کی بنا پر محل نظر قرار دیا ہے۔سپلی وجہ برق صاحب نے یوں لکھی ہے کہ۔علم سے زیادہ الہامات کی حقیقت کو دوسرا نہیں سمجھ سکتا اور اس کی تحریروں کو منسوخ کرنا ایک امتی کا کام نہیں ہو سکتا ( حضرت امام جماعت احمد یہ اور جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امتی نہیں ناقل) ایک تحصیلدار کو یہ اختیار حاصل نہیں ہو تا کہ وہ گورنر کے احکام کو منسوخ کرتا پھرنے۔“ الجواب ( حرف محرمانہ صفحہ ۶۷) اس جگہ بات یوں نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کسی بیان کو حضرت امام جماعت احمدیہ نے از خود منسوخ قرار دیا ہو بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پہلے بیان کو جو اس معروف تعریف نبوت کے ماتحت تھا جس میں نبی کے لئے امتی نہ ہونا ضروری قرار دیا تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے صریح طور پر نبی کا خطاب ملنے پر تبدیل فرمایا ہے۔چنانچہ آپ حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے