تحقیقِ عارفانہ — Page 127
۱۲۷ مُوسَى إِمَاماً وَّ رَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقُ لِسَاناً عَرَبِيًّا لِيُنْذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُو بُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ " (سوره الاحقاف : ۱۲، ۱۳) یعنی چونکہ کفار پر اس قرآن کی صداقت نہیں کھلی وہ کہیں گے کہ یہ تو ایک پرانا جھوٹ ہے (جو پہلے لوگ بھی بولتے آئے ) حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب امام اور رحمت تھی۔اور یہ کتاب (قرآن مجید ) ایک ایسی کتاب ہے جو پہلی کتاب کی مصدق ہے اور عربی زبان میں ہے تاکہ جنہوں نے ظلم کیا ہے ان کو ڈرائے اور جو لوگ خدائی حکم کے مطابق کام کرتے ہیں ان کو بشارت دے۔“ پس آنحضرت ﷺ سے پہلے جس قدر انبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ظاہر ہوئے جن میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ان کی کتاب شریعت تورات ہی تھی۔جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تھی۔انجیل کو نئی شریعت کے معنی میں کوئی کتاب قرار نہیں دیا جا سکتاور نہ قرآن مجید سے پہلے اس کتاب کو بھی امام یعنی شریعت قرار دیا جاتا۔ہاں انجیل کو صرف لغوی معنی میں کتاب کہا جاسکتا ہے وہ کسی شریعت جدیدہ پر مشتمل نہیں تھی۔حضرت بائی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے نزدیک بھی تمام انبیاء بنی اسرائیل تورات ہی کے تابع تھے۔آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے کوئی الگ شریعت قرار نہیں دی فرماتے ہیں۔"بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی وین کی شوکت اور صداقت کا اظہار ہو پس وہ نبی کہلائے۔" انجیل کے متعلق فرماتے ہیں۔( بدر مارچ ۱۹۰۸ء ) انجیل کیا تھی ؟ وہ صرف توریت کے چندا کام کا خلاصہ تھی جس سے پہلے