تحقیقِ عارفانہ — Page 123
۱۲۳ ساتھ کہ انگریزوں کی طرف سے مداخلت فی الدین نہیں ہوگی عیسائی تسلط منظور کر رکھا تھا۔پس جب ایک حکومت دین میں مداخلت نہ کرتی ہو تو ایسی حکومت میں رہنا اسلامی تعلیم کے مطابق غلامی نہیں۔بلکہ از روئے فقہ اسلام ایسے ملک کو دار الاسلام ہی سمجھنا چاہیے نہ دار الحرب۔حبشہ میں مسلمان آزادی کی خاطر ہی گئے تھے کیونکہ مکہ میں انہیں آزادی حاصل نہ تھی۔یہ نہیں تھا کہ ہجرت کا حکم دے کر آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو ایک غلامی سے نکال کر دوسری نامی میں داخل کرنے کا منصوبہ پایا تھا۔پس جس طرح صحابہ کرام حبشہ کے بادشاہ کی ماتحتی میں غلام نہ تھے۔کیونکہ وہ آزادی کی خاطر حبشہ گئے تھے۔اسی طرح حضرت بانی مسلہ احمدیہ انگریزوں کے ماتحت رہ کر بھی آزاد تھے۔اور آپ نے اس آزادی سے یہ کمال درجے کا فائدہ اٹھایا کہ اپنے زمانہ میں ملکہ معظمہ وکٹوریہ کو نہایت زور دار طریق سے دعوتِ اسلام دی۔کیا اس قسم کا مرد مجاہد غلامی کی تعلیم دینے والا قرار دیا جاسکتا ہے۔رفع اختلاف کی دوسری صورت پھر برق صاحب ہماری طرف سے حضرت اقدس کی عبارتوں میں رفع اختلاف کی دوسری توجیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ نبوت دو قسم کی ہے۔تشریعی و غیر تشریعی جہاں مرزا صاحب نے نبوت کا انکار فرمایا ہے وہاں تشریعی نبوت مراد ہے۔اور جہاں دعویٰ کیا ہے وہاں غیر تشریعی۔(حرف محرمانه صفحه ۶۳) یہ توجیہہ ہمارے نزدیک درست ہے مگر برقی صاحب لکھتے ہیں۔اگر بالفرض نبوت کی دو قسمیں تشریعی و غیر تشریعی مان بھی لی جائیں تب بھی یہ حقیقت سب کے ہاں مسلمہ ہے کہ حضرت عیسی صاحب کتاب و شریعت نبی