تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 102 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 102

۱۰۲ انبیاء سے افضل ہیں تو اس نے آپ پر آیت خاتم النبین نازل فرما دی۔جو آپ کے افضل ہونے پر روشن دلیل ہے اور پھر آپ نے بھی خود کو تمام انبیاء سے افضل قرار دے دیا۔اسی قسم کی مصلحت خدا تعالیٰ کے متو نظر حضرت مسیح موعود پر ان کی شان کے تدریجی انکشاف کے بارہ میں ہے۔پس مامور من اللہ پر اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف میں قوم کی تربیت مد نظر ہوتی ہے۔جب قوم یقین و ایمان میں خوب ترقی کر جاتی ہے تو خدا تعالی مامور من اللہ پر اس کی اصل شان کا انکشاف کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے مامورین از خود کسی بلند مقام کا دعویٰ کرنے میں محتاط رہتے ہیں۔برق صاحب کی پیش کردہ عبارتوں کا حل برق صاحب نے حضرت اقدس کی عبارات پیش کرنے میں آپ کے کلام کو ملتقبس کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ آپ حضرت اقدس کی بعض سابقہ تحریروں سے یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے آنحضرت ﷺ کو اس زمانہ میں ان معنوں میں خاتم النبیین قرار دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نازل نہیں ہو سکتے۔بلکہ خاتم النبیین کی مہر لگ چکی ہے۔اگر ایک دفعہ بھی حضرت عیسی کے آنے پر ان پر نزول وحی فرض کیا جائے تو یہ بھی ختم نبوت کے منافی ہے کیونکہ جب معتمیت کی مر ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہوئی شروع ہو گئی تو پھر تھو ڑ لیا زیادہ ہو پہر اور ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے کے لیے کوئی نہیں آتا تو پھر خاتم الانبیاء کی شان میں رخنہ پڑ جاتا۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ میں اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا نیا ہو یا پرانا۔واضح ہو کہ حضرت اقدس نے اس قسم کی عبارتیں ختم نبوت کے ان معنوں کے پیش نظر لکھی ہیں