تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 103 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 103

۱۰۳ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی تشریعی یا مستقل نبی نہیں آسکتا۔پس حضرت مسیح موعود کا یہ لکھنا کہ حضرت عیسی کے امت محمدیہ میں آنے سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹتی ہے اور ان کا آنا ختم نبوت کے منافی ہے اس کی حقیقت یہی ہے کہ امت کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ چونکہ حضرت عیسی مستقل نبی تھے۔اور خاتم النبیین کی مہران کی نبوت مستقلہ پر لگی ہوئی تھی اس لئے جب تک یہ مہر ٹوٹ نہ جائے وہ مستقل نبی سے امتی نبی نہیں بن سکتے۔پھر آپ کا یہ لکھنا کہ ان پر وحی نبوت کا نزول ختم نبوت کے منافی ہے اس کے بھی یہی معنی ہیں کہ وحی نبوت مستقلہ یا تشریعیہ چونکہ آنحضرت ﷺ کے بعد نازل نہیں ہو سکتی۔اس لئے حضرت عیسی اگر دوبارہ آئیں اور ان پر وحی نازل ہو تو چونکہ وہ مستقل نبی ہیں لا محالہ ان کی وحی مستقلہ نبوت کی وحی ہو گی۔اور ایسا ہو نا ختم نبوت کے منافی ہے۔لہذا حضرت عیسی اصالتا نہیں آسکتے۔امتی پر وحی کے نزول کو حضرت اقدس نے منافی ختم نبوت قرار نہیں دیا۔صرف مستقلہ اور تشریعی نبوت کی وحی آپ کے نزدیک منقطع ہے اور قیامت تک منقطع ہے۔ایسی وحی کا نزول جماعت احمد یہ اور حضرت اقدس واقعی ختم نبوت کے منافی سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے تادم واپسیں اپنے اوپر کبھی ایسی وحی کے نزول کو دعویٰ نہیں فرمایا۔پھر یہ جو فرمایا کہ خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے کے لئے اگر کوئی نبی آتا تو پھر خاتم الانبیاء کی شان میں رخنہ پڑ جاتا۔اس عبارت میں دراصل علماء کے اس خیال کا رد ہے کہ حضرت عیسی آنحضرت ﷺ کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے آپ کے بعد نازل ہوں گے۔حضرت اقدس یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرت عیسی مستقل نبی تھے تو ان کا خاتم الانبیاء کے بعد آنا خاتم الانبیاء کی عظمت کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ آپ کی شان عظیم میں رخنہ پیدا کرتا ہے۔کیونکہ خاتم النہین کے ظہور کے بعد کسی مستقل یا