تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 100 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 100

چنانچہ دیکھئے کہ آنحضرت عے پر اپنی شان کے متعلق انکشاف بھی تدریجاً ہی ہوا ہے۔ایک وقت خود رسول کریم ﷺ یہ فرماتے ہیں مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونَس بن مَتى فَقَدْ كَذِبَ (مختاری) جلد ۳ صفحه ۸۱) نیز فرماتے ہیں لا تُحَبرُونِي عَلَى موسى ( صحیح بخاری جلد ۴ صفحہ ۲۰۹) یعنی جس نے کہا کہ میں یونس سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ بولا مجھے حضرت موسی پر ترجیح نہ دو بلکہ جب ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کو تمام لوگوں سے بہتر قرار دیا تو آپ نے فرمایا ذاك إبراهيم (صحیح مسلم جلد ۲ فضائل ابراہیم ) کہ یہ شان تو حضرت ابراہیم کی ہے۔لیکن ایک دوسر ا وقت آپ پر ایسا آیا کہ آپ نے فرما یا فضلَتُ عَلى الأَنْبِيَاءِ بست (صحیح مسلم باب الفضائل ) کہ چھ ہاتوں میں تمام نبیوں سے افضل ہوں۔نیز فرمایا لَو كَانَ مُوسَى حَيًّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا الْبَاعِى مرقاة جلد ۵ صفحه ۳۹۳) یعنی اگر موسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا کے کوئی چارہ نہ ہوتا۔نیز آپ نے فرمایا۔آنَا سَيِّدُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مِنَ النَّبِيِّنَ (فردوس ویلمی ) کہ میں تمام پہلے اور پچھلے نبیوں کا سردار ہوں۔اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود پر بھی اپنی شان کے متعلق تدریجی انکشاف ہوا تو یہ قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔اور اس انکشاف کی روشنی میں خاتم النعین کی تفسیر میں مزید وضاحت بھی محل اعتراض نہیں ہو سکتی۔آنحضرت ملے پر اپنے خاتم النہین ہونے کا انکشاف بھی شہ ھ میں ہوا تھا۔یعنی وفات سے چند سال ہی پہلے آپ کو اپنے اس مرتبہ کا علم ہوا تھا۔ایک اعتراض کا جواب لمذاہبرق صاحب کا یہ اعتراض کہ۔”جو جبریل دن میں کئی بار آپ (مرزا صاحب) کے ہاں آتا تھا اس نے ایک