تحقیقِ عارفانہ — Page 84
۸۴ اب اوپر کے اقتباس کے ساتھ اس عبارت کو ملا کر پڑھیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس عبارت میں عمارت سے مراد سورۃ فاتحہ میں بیان کردہ پیشگوئی کی عمارت ہے اور اس پیشگوئی میں ایسے تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ظہور آخری زمانہ میں امت محمدیہ میں ہونا ضروری تھا۔یہ تین گروہ مغضوب علیہم کا گروہ والضالین کا گروہ اور منعم علیہم کا گروہ ہیں۔حضرت مسیح موعود بتاتے ہیں کہ امت محمدیہ کے آخری دور میں بھی ان تینوں گروہوں کا امت میں سے ظہور ضروری تھا۔جن میں سے آخری گروہ منعم علیہم کا تھا۔جس کی تعمیل امت کے ایک کامل فرد امتی نبی کے ذریعہ ہونے والی تھی۔جب قوم میں کثرت کے ساتھ نصاری اور یہود لحاظ اخلاق و سیرت پیدا ہو چکے تو اب سورہ فاتحہ کی اس عمارت میں سے صرف منعم عليهم گروه کا وجود مع فرد اکمل جو اس گروہ کے لئے ہمنزلہ آخری اینٹ کے تھا باقی تھا۔لہذا مسیح موعود کے ظہور سے جو اس گروہ کا فرد اکمل ہے منعم علیہم کا تیسر اگر وہ وجود میں آگیا اور سورہ فاتحہ کی اس پیشگوئی کی عمارت تینوں گروہوں مغضوب عليهم، ضالین اور منعم علیہم سے تکمیل پاگئی۔خطبہ الہامیہ کا فقرہ اِنِّی جُعِلْتُ فَرَداً أَكْمَلَ مِنَ الَّذِينَ أَنْعِمَ عَلَيْهِمْ آخری اینٹ کی تفسیر و تشریح ہے پس مسیح موعود اپنے زمانہ کے منعم علیہم گروہ کی آخری اینٹ با معنی فردا اکمل ہیں۔کیونکہ انہیں کے ذریعہ سے تیسر اگر وہ وجود میں آکر عمارت کی تکمیل ہوئی ہے۔جو سورۃ فاتحہ کی پیشگوئی میں مذکور تھی۔پس اس عبارت سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ مسیح موعود امت محمدیہ کے آخری نبی ہیں۔لہذا آپ کے بعد بھی نبی کا امکان ہے۔برق صاحب نے از راہ مکلف یا غلط فہمی سے عمارت کے لفظ سے عمارت