تحقیقِ عارفانہ — Page 73
۷۳ ہم خاتم کے معنی نبیوں کیلئے مؤثر وجود اور تمام نبیوں کا مصداق قرار دیتے ہیں۔یعنی ایسا نبی جس کی مہر نبوت کے فیض سے نبی بن سکتے ہیں اور جو تمام انبیاء کا مصدق ہے اگر وہ خاتم کے معنی آخری لیں تو علمائے امت تو آخری نبی حضرت عیسی کو مانتے ہیں۔چنانچہ امام شعرانی لکھتے ہیں۔جمِيعُ الأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلامُ نُوَّابٌ لَهُ من لدن آدَمَ إِلَى آخِرِ الرُّسُلِ وَهُوَ عِيسَى ہیں۔۔(الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۲۲) یعنی تمام انبیاء آدم سے آخری رسول عیسی تیک آنحضرت ﷺ کے نائب پس جناب برق صاحب پر لازم تھا وہ ان علمائے کی طرف توجہ فرماتے جو حضرت عیسی کے آنحضرت ﷺ کے بعد اصالتنا آنے کے قائل ہونے کی وجہ سے حضرت عیسی کو آخری نبی مانتے ہیں۔اور انہیں سمجھاتے کہ اس طرح خاتم النعین میں النبیین کا الف لام استغراقی نہیں رہتا۔مگر جناب برق صاحب نے ان کی طرف اس لئے توجہ نہیں فرمائی کہ انہیں ڈر تھا کہ یہ علماء ان پر بھی کفر کا فتوی لگادیں گے۔اس لئے وہ احمدیت کے پردہ میں ان میں ہر دلعزیزی حاصل کر کے ان میں اپنے خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔اعتدال کی راہ جناب برق صاحب نے حدیث لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقاً نَبياً كو اس لئے غلط قرار دے دیا تھا کہ یہ امت کے اندر امکان نبوت کی واضح دلیل ہے۔اور برق صاحب آئندہ کسی نبی کو قبول کرنا اپنی اس آزادی میں مانع سمجھتے ہیں جو قرآن مجید کی من مانی تفسیر کرنے اور احادیث نبویہ کا انکار کرنے میں انہوں نے اختیار کر رکھی ہے