تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 42 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 42

۴۲ والے افراد کی معیت زمانی بھی محال ہے اور معیت مکانی بھی محال ہے۔اس لئے اس جگہ معیت معنوی یعنی معیت فی الدرجہ ہی مراد ہے۔جیسا کہ آیت تَوَ فَنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران : ۱۹۴) ( ہمیں نیکوں کے ساتھ یعنی نیک بنا کر وفات دے) کی دعا میں ابرار سے معیتِ فی الدرجہ ہی مراد ہے۔یا جیسے آیت إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَ اَصْلَحُوا - وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ وَ اَحْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (النساء : ۱۴۷) میں معيت في الدرجہ مراد ہے۔ہی آیت بتاتی ہے کہ توبہ کرنے والے اصلاح کرنے والے اعتصام باللہ کرنے والے اور اللہ تعالی کی خالص اطاعت کر نے والے اسی دنیا میں مومنوں کے ساتھ ہیں یعنی مومنوں میں سے ہیں اور ان کا درجہ پانے والے ہیں۔پس جس طرح فَأُولئِكَ مَعَ المُؤمِنِينَ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار پر دلالت کر رہا ہے اور قیامت تک کے لئے تو بہ کرنے والے اور اعتصام باللہ کرنے والے اور اطاعت کو خدا تعالیٰ کے لئے خالص کرنے والے کو مومنوں میں داخل قرار دیتا ہے۔اسی طرح فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَ الصَّدِيقِينَ وَ الشُّهَدَاءِ والصَّالِحِينَ بھی جملہ اسمیہ ہے اور قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لئے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے مدارج پانے کی امید دلاتا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ اس جگہ صرف ظاہری معیت مراد ہے جو قیامت کو حاصل ہو گی۔تو اول اس سے جملہ اسمیہ کا فائدہ جو استمرار ہے مفقود ہو جاتا ہے۔دوم اس آیت کا یہ مفاد من جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے اب کوئی شخص صدیق شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا بلکہ ایسے لوگ صرف قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ظاہری طور پر ہوں گے۔اس دنیا میں ان میں سے کوئی صدیق، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکے گا۔کیونکہ النبین الصِّدِ يُقِينَ الشُّهَدَاءِ الصَّالِحِينَ اس آیت میں واو عاطفہ سے ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔پس اگر آیت کا یہ مفاد ہو کہ