تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 472 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 472

۴۷۲ یعنی ہم نے یونس نبی کو ایک لاکھ کی طرف بھیجا یا وہ ایک لاکھ سے زیادہ تھے۔اب کیا جناب برق صاحب یہاں بھی خدا سے یہ استہزاء کریں گے کہ قرآن مجید کے خدا کو گنتی آتی تھی یا نہیں۔اگر آتی تھی تو پھر اس نے ان لوگوں کی صحیح اور معین تعداد کیوں نہ بتائی۔کیوں ایسی عبارت استعمال کی جو معین تعداد کے متعلق ابہام پیدا کر دیتی ہے۔پس اگر قرآن مجید کا خدا اس جگہ کسی وجہ سے ان لوگوں کی معین تعداد کے بیان کو اخفاء میں رکھنے کے باوجود عالم الغیب رہتا ہے تو حضرت اقدس کو الہام ثَمَانِينَ حَوْ لا أَوْ قَرِيباً مِنْ ذَالِكَ اَوْ نَزِيدُ عَلَيْهِ میں بھی وہ آپ کی ہونے والی عمر کو قریب قریب بیان کے لئے اسی قسم کی زبان اختیار کر سکتا ہے۔کیونکہ وہ معین طور پر یہ ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا کہ آپ کی عمر در حقیقت کتنی ہوگی۔پھر قرآن مجید میں وارد ہے۔واحرُونَ مُرُ حَونَ يَا مَرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَدِ بُهُمْ وَ إِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِم وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ (توبه : ۱۰۲) یعنی کچھ اور لوگ بھی ہیں (یعنی تین صحابه کعب بن مالک ، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع جو جنگ تبوک میں جانے سے پیچھے رہ گئے تھے ) جو خدا تعالی کے حکم کے انتظار میں ہیں جن کا معاملہ آخر میں ڈالا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دے گا یا معاف فرما دے گا۔اللہ تعالیٰ جانے والا اور حکمت والا ہے۔پس یا "کا الہام میں استعمال خدا کے علیم و حکیم ہونے کے خلاف نہیں۔"یا" کے استعمال میں یقیناً حکیم خدا کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔اور اس سے اس کے علیم ہونے کی نفی نہیں ہوتی۔اس لئے اس وحی میں یا کے استعمال کے بعد وَ اللهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ فرمایا گیا۔پیشگوئی کی روح جناب برق صاحب اعتراض کی طرف تو لیکے ہیں لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ یہ پیشگوئی اپنی اصل روح کے لحاظ سے کیسی عظیم