تحقیقِ عارفانہ — Page 471
۴۷۱ نہ کرتے کہ الہام میں یہ تجاہل کیوں ؟ اگر وہ قرآن مجید کی الہامی زبان کا علم رکھتے تو کبھی ان پڑھ کی مثال دے کر جمع تفریق سے اس کی نا واقفی کو پیش کر کے الہام کو نسیان۔اشتباہ اور تجاہل کے بیان پر مشتمل قرار نہ دیتے۔دیکھئے قرآن مجید میں اللہ تعالی صلى الله آنحضرت مے کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ا ما نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفيَنَّكَ (یونس : ۴۷ مومن : ۷۸) یعنی اے نبی !یا ہم تجھے (کافروں سے) موعود عذاب کا کچھ حصہ دکھا دیں گے یا تجھے وفات دے دیں گے۔جناب برق صاحب کو تو یہاں بھی یہ سوال پیدا ہونا چاہیئے کہ کیا اس وحی کے نازل کرنے والا خدا ان دونوں باتوں میں سے جو اس نے اس وحی میں بیان کی ہیں۔ایک معین امر کو جس کے متعلق اس کا حتمی ارادہ تھا جانتا تھایا نہیں ؟ اگر جانتا تھا تو پھر اس نے معین طور پر ایک ہی بات کیوں نہ کمی جو وہ کرنا چاہتا تھا۔اس نے یہ کیوں کھایا ایسا کروں گا یا دیا۔صاف ظاہر ہے کہ جناب برق صاحب کو جب یہ مسلم ہے کہ قرآن مجید کی یہ وتی علام الغیوب خدا کی طرف سے ہے تو پھر انہیں معلوم ہو کہ اس میں بایا کا استعمال اس غرض کے لئے کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ باوجود اس بات کو جاننے کے جو وہ دراصل کرنے والا تھا ابھی ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا۔اور اس بات کے مخفی رکھنے میں اس کے نزدیک کوئی مصلحت کار فرما تھی۔بہر حال خدا کی طرف سے ایسا الہام ہو سکتا ہے که یا یہ بات کروں گا یا اس کے خلاف دوسری بات کروں گا اور اس سے خدا تعالی کے عالم الغیب ہونے پر کوئی زو نہیں پڑتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَرسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ الفِر أَو يَزِيدُونَ - ( الصفت : ۱۴۸)