تحقیقِ عارفانہ — Page 466
۴۶۶ جماعت کے لئے تھا جن کے ایمان میں کوئی ظلم کی ملونی نہ ہو۔پس جماعت کی حفاظت کا وعدہ محض نسبتی تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین نے پیشگوئی کو غلط رنگ میں پھیلایا۔حتی کہ اس پیشگوئی سے بعض نا واقف احمدی بھی یہ کہنے لگ گئے کہ ہم میں سے کوئی طاعون سے نہیں مرے گا۔چنانچہ جناب برق صاحب نے گورنمنٹ کی رپورٹ سے جو اقتباس درج کیا ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ لکھنے والا بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ جماعت کے ہر فرد کی طاعون سے حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہے چنانچہ اس رپورٹ کے ایک اقتباس کو درج کرنے کے بعد جناب برق صاحب اس کے ترجمہ کا ایک حصہ بگاڑتے ہوئے لکھتے ہیں۔قبول احمدیت کی بڑی وجہ بانی احمدیت کا یہ دعوی تھا کہ اس کے پیرو طاعون سے محفوظ رہیں گے (حالانکہ جیسا میں حضرت اقدس کے الہام و کلام سے بتا چکا ہوں ایسا کوئی دعوئی نہ تھا۔ناقل ) لیکن حفاظت کے ایک عارضی وقفہ کے بعد احمدی بھی باقی آبادی کی طرح طاعون کا شکار ہونے لگے اور لوگوں کا اعتقاد رسول قادیان کے اعلان کے متعلق متزلزل ہو گیا۔“ رپورٹ کے آخری فقرہ کا ترجمہ برق صاحب نے غلط کیا ہے۔رپورٹ کے انگریزی الفاظ یہ ہیں :- And the faith in the afficacy of the prophets declaration was some what shaken۔صحیح ترجمہ اس کا یہ ہے کہ۔”نبی کے اعلان کے متعلق اعتقاد میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا۔“ پس رپورٹ نویس تو کچھ تزلزل پیدا ہونے کا ذکر کرتا ہے مگر جناب برق صاحب اس کی عبارت کو یہ معنی دے رہے ہیں کہ۔