تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 425 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 425

۴۲۵ وہ اس دنیوی ہاویہ سے بھی بچ جاتے۔لیکن چونکہ آتھم صاحب نے اعلانیہ رجوع کا اظہار نہیں کیا تھا اس لئے ان پر باوجو د رجوع الی الحق کے مسلسل گھبراہٹ اور ہول دل پر طاری رہا۔پس اس رنگ میں عبد اللہ آتھم صاحب اس اصل ہاویہ میں گر چکے تھے جو دنیا میں انسان کو مل سکتا ہے البتہ آخرت کے کامل ہادیہ میں وہ رجوع الی الحق کی وجہ سے پندرہ ماہ کے اندر نہ گرائے گئے۔چنانچہ حضرت اقدس برق صاحب کی پیش کردہ عبارت کے بعد انوار لا سلام کے صفحہ ے پر تحریر فرماتے ہیں :- اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اُس کے مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اسبات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بیشک ہادیہ میں گرا۔ضرور گرا اور اس کے دل میں رنج اور بد حواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور جو ہماری تشریحی عبارت میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوا۔کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الہی قانون کے موافق الهامی شرط سے فائدہ اٹھالیا اور موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی۔اور وہ درد اور دُکھ کے ہادیہ میں ضرور گرا اور ہادیہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آیا۔پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔الحمد للہ علی ذالک۔“ (انوار الاسلام صفحہ ۷ ) نیز اس سے پہلے صفحہ ۵ ۶ پر تحریر فرماتے ہیں :- توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہادیہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبد اللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول