تحقیقِ عارفانہ — Page 426
۴۲۶ اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا یہی اصل ہاو یہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود ہی نہیں۔بیشک یہ ایک ہاویہ تھا جس کو عبد اللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق ہو مت لیا۔لیکن وہ بڑا ہادیہ جو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اس میں کسی قدر مہلت دی گئی ہے۔“ اگر جناب برق صاحب ان عبارتوں پر غور فرما لیتے تو اس لفظی کھیل کھیلنے سے بچ جاتے جو انہوں نے اپنے اعتراض میں کھیلی ہے۔ان عبارتوں سے صاف طاہر ہے کہ ہادیہ کا اعلیٰ نتیجہ موت تھا جو رجوع الی الحق کی شرط سے مل سکتا تھا۔اور ہاویہ کے اس نتیجہ سے جو دنیوی مصائب سے تعلق رکھتا تھا۔اس میں عبد اللہ آتھم کے گرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے اس لئے جناب برق صاحب کا اعتراض بے معنی اور بے وزن ہے۔جس ہادیہ میں عبداللہ آتھم گرا اُسے دنیوی ہادیہ کے لحاظ سے اصل ہاویہ قرار دیا گیا ہے اور موت والے ہادیہ کا ذکر آپ نے اعلیٰ نتیجہ ہادیہ کے الفاظ میں کہا ہے اور اس سے وعیدی موت مراد لی ہے اور یہی ہادیہ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے کی شرط سے مشروط تھا۔پس برق صاحب کا یہ اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کر چکا تھا تو پھر اسے اصل ہادیہ میں کیوں گرایا گیا۔☆☆☆